سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے سیاسی مقاصد کیلئے توہین مذہب کے قانون کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرز پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی یہ پہلی مثال ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس سینیٹر ولید اقبال کی زیر صدارت ہوا جس میں آج مسجد نبوی کے واقعے اور اس کے بعد درج توہین مذہب کے مقدمات پر بات چیت کی گئی۔اجلاس میں وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ، سینیٹر طاہر بزنجو، سینیٹر سیمی ایزدی، سینیٹر کامران مائیکل شریک ہوئے، ان کے علاوہ ایڈیشنل آئی جی پنجاب سلطان احمد، آر پی او اور سی پی او فیصل آباد بھی کمیٹی کی معاونت کیلئے موجود تھے۔کمیٹی اراکین کو وزارت انسانی حقوق، داخلہ، آئی جی جی پنجاب، سی پی او فیصل آباد نے مسجد نبوی میں پاکستانی سرکاری وفد پر نعرے بازی کے بعد درج ایف آئی آرز پر بریفنگ دی۔
قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں توہین مذہب سے متعلق 580 کیسز درج ہوئے، جو پچھلے سال کی نسبت 100 فیصد زائد ہیں۔وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے کہا کہ مذہبی معاملات پر ایف آئی آر درج ہوئیں، اس معاملے پر پولیس اہلکاروں کی رائے لے لی جائے تو بہتر ہے، کتنے پرچے درج ہوئے اور کس کس کو گرفتار کیا، اداروں سے پوچھا جائے۔
اجلاس میں سیکریٹری انسانی حقوق نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر کوئی کیس سعودی عرب میں ہوا تو دیکھنا ہوگا کہ وہاں اس پر کیسے مقدمات بنے اور کیا دفعات لگیں، اگر سعودی عرب میں مقدمات کی نوعیت مختلف ہے تو یہاں ایف آئی آر میں کیوں ایسا مواد ڈالا گیا۔
وزارت داخلہ کی جانب سے سینئر جوائنٹ سیکریٹری ندیم بھٹی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں پوائنٹ نمبر 4 میں دفتر خارجہ کو بھی شامل کیا جائے اور پوچھا جائے کہ سعودی عرب میں ان کیسز میں کیا پیشرفت ہوئی، وزارت داخلہ اس وقت معلومات اکھٹی کررہی ہے کہ کتنی ایف آئی آرز درج ہوئی ہیں۔ڈی آئی جی سلطان احمد چوہدری نے کمیٹی کو توہین مذہب کے بارے میں درج مقدمات سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ مذہبی جذبات بہت اہم ہیں، ان کا خیال کرنا چاہئے، دو ایف آئی آر پنجاب میں اٹک اور فیصل آباد میں ہوئیں، اور بھی کئی درخواستیں آئیں، سعودی عرب معاملے پر درخواستوں کی انکوائری کی گئی ہے۔
کیا سعودی عرب میں جو ہوا اس پر پاکستان میں مقدمہ ہوسکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کوئی شہری بیرون ملک کوئی جرم کرے تو تعزیرات پاکستان کے تحت یہ قابل دست اندازی جرم ہے، اس لئے سعودی عرب میں ہونیوالے واقعے پر پاکستان میں بھی کیس چل سکتا ہے۔
سینیٹر طاہر بزنجو نے سوال کیا کہ ایف آئی آر کرانے والے کون ہیں تو سی پی او فیصل آباد نے جواب دیا کہ مدینہ ٹان میں جو مقدمہ درج ہوا اس شخص کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے، اس کا مذہبی بیک گرانڈ بھی لگتا ہے۔جبکہ ڈی آئی جی سلطان احمد نے بتایا کہ اٹک کے کیس پر گرفتاری ہوئی ہے، ایئرپورٹ سے اٹک معاملے پر گرفتاری کی گئی تھی۔
چیئرمین کمیٹی ولید اقبال نے کہا کہ اس سے ہماری اپنی زندگی خطرات میں آسکتی ہے، شیریں مزاری نے اقوام متحدہ کے نام خط میں لکھا ہے کہ اس قانون سے زندگیاں خطرے میں ہیں، اس لئے اس حوالے سے بھی آپ نے دیکھنا ہے۔وزیر انسانی حقوق ریاض پیرزادہ نے کہا کہ اس معاملے کو ہائی لائٹ نہ کیا جائے، سلمان تاثیر کا بھی حساسیت کی وجہ سے قتل ہوگیا تھا، ہمارے جو حالات ہیں ان کو دیکھتے ہوئے عقلمندی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، ملک میں ایسے اسٹیک ہولڈرز بھی ہیں کہ اس قانون کا غلط استعمال بھی ہوسکتا ہے، ان مقدمات سے میں خود بری طرح متاثرہ ہوں۔
سینیٹر کامران مائیکل نے کہا کہ ہجوم کو کنٹرول کرنا پولیس کے بس کی بھی بات نہیں ہے، پولیس اگر کسی کو توہین رسالت کیس میں ہجوم سے بچاتی ہے تو ہجوم پولیس اور تھانے پر حملہ کردیتا ہے۔
