لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکپتن سے ملنے والی کراچی کی رہائشی دعا زہرہ نے نکاح کے بعد والد کے خلاف استغاثہ دائر کردیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دعا زہرہ نے والد پر لاہور میں واقع گھر میں گھسنے کا الزام عائد کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ والد میرے کزن زین العابدین سے میری زبردستی شادی کراناچاہتے تھے۔
دعا نے والد اور کزن پر اغوا کی کوشش کا بھی الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ 18 اپریل کو والد مہدی کاظمی اور کزن زین العابدین اچانک گھرمیں گھس آئے اور اس دوران والد اور کزن نے مجھ سے اور میرے خاوند سے گالم گلوچ کی اور ہمیں دھمکیاں دیں۔دعا کا کہنا تھا کہ والد اور کزن نے مجھے میرے گھر سے اغوا کرنے کی کوشش بھی کی لیکن اہل محلہ کے جمع ہونے پر دونوں کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔دعا نے موقف اپنایا کہ میں نے اپنی پسند سے شادی کی ہے، اپنے خاوند کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہی تھی اور خاوند کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں جب کہ باپ اور کزن کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے۔
مجسٹریٹ کی عدالت نے دعا زہرا کو والد کے خلاف شواہدپیش کرنے کے لیے 18 مئی کوبلالیا۔واضح رہے دعا زہرہ کراچی کے علاقے ملیر کی رہائشی ہے جو 16 اپریل کو لاپتا ہوئی تھی جس پر لڑکی کے گھر والوں کاکہنا تھا کہ دعا کو اغوا کیا گیا ہے۔ویڈیو بیان میں دعا زہرہ نے کہا کہ میں اپنی مرضی سے اپنے گھر سے آئی ہوں، میرے گھر والے زبردستی میری شادی کسی اور سے کرانا چاہ رہے تھے، وہ مجھے مارتے تھے، جس پر میں راضی نہیں ہوئی، اپنی مرضی سے آئی ہوں کسی نے اغوا نہیں کیا جب کہ گھر سے کوئی قیمتی سامان نہیں لائی، گھر والے میری عمر غلط بتارہے ہیں، میری عمر 18 سال ہے، اپنی مرضی سے ظہیر احمد سے کورٹ میرج کی ہے، کوئی زبردستی نہیں ہوئی لہذا مجھے تنگ نہ کیاجائے، اپنے گھر میں شوہر کے ساتھ بہت خوش ہوں ۔
