لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ہمیشہ ان پر اعتماد کیا اور اس مشکل صورتحال میں اگر وہ خود استعفی پیش نہ کرتے تو وہ اپنا حق ادا نہ کر پاتے۔وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ میں نے بس یہی سوچا کہ جو میرے بس میں ہے، وہ تو میں کروں تاکہ موجود سیاسی صورتحال میں آسانی پیدا کروں۔ میں نے تو بس یہی کوشش کی کہ اگر قربانی دینی ہے تو سب سے پہلے میں اس قربانی کے لیے تیار ہوں۔
عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ اس پر تو کوئی بات کرنا حتمی نہیں کیونکہ یہاں تو پل پل کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں اور سیاست میں یہ سب ہوتا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیر اعظم اور خود ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں اگرمیری وجہ سے یہ سیاسی بحران بنا ہے تو میں نے تو خود وزیر اعظم کو ہماری میٹنگ میں کہا کہ وہ جو فیصلہ کریں گے میں اس کی تکمیل کروں گا۔عمران خان کہیں گے کہ بیٹھ جائیں تو ہم سیاست میں نظر نہیں آئیں گیان کا کہنا تھا کہ اس لیے جو پارٹی فیصلہ کرے گی، جہاں کہے گی میں حاضر ہوں۔ ہم تو سپاہی ہیں اگر عمران خان کہیں گے کہ بیٹھ جائیں تو ہم آپ کو سیاست میں نظر بھی نہیں آئیں گے۔چوہدری پرویز الہی کے وزیر اعلی بننے کے سوال پر عثمان بزدار نے کہا کہ ہماری پارٹی نے انھیں منتخب کیا اور جو فیصلہ پارٹی کرے گی، ہم سب لوگوں کو اس کے پیچھے کھڑا ہونا ہے اور نیک نیتی کے ساتھ کوشش کرنی چاہیے۔وہ کہتے ہیں کہ باقی تو قسمت کی باتیں ہوتی ہیں کیونکہ جس کے نصیب میں جو کچھ لکھا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے۔ مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں۔پنجاب کے وسیم اکرم پلس کہلائے جانے والے سردار عثمان بزدار۔۔۔ جن کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان کو اکثر کہتے سنا کہ عثمان اتنا کام کرتے ہیں لیکن کسی کو نظر ہی نہیں آتا۔اس سوال کے جواب میں کہ مخالفین کی جانب سے اکثر یہ بات کی جاتی ہے کہ آپ خاتون اول کے منظور نظر تھے، اس لیے آپ ساڑھے تین سال تک اس کرسی پر بیٹھے رہے اس پر آپ کیا کہیں گے؟وزیر اعلی عثمان بزدار نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ آپ دیکھیں کہ وزیر اعظم نے وزیر اعلی کے لیے ایک معیار مخصوص کیا تھا کہ منشور کو لے کر چلنا ہے۔ ایسا بندہ ہو جس پر پہلے سے کوئی سکینڈل نہ ہوں، اس کے ذاتی کوئی مفادات نہ ہوں۔میں اس معیار پر پورا اتر رہا تھا۔ پنجاب کے سب سے پسماندہ علاقے کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ پہلی دفعہ ایم پی اے بنا۔ میں پڑھا لکھا انسان ہوں ایسا نہیں کہ مجھے کچھ پتا نہیں۔ یہ تو وقت بتائے گا کہ میں نے کیا کیا کام کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ باقی کوئی انسان ایسا نہیں جو کہے کہ میں ہر چیز میں ماسٹر ہوں۔ انسان تو قبر تک سیکھتا ہے۔ بس انسان کو تکبر نہیں کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو مزید بہتر کرتے رہنا چاہیے۔ میرا خواب تو یہ ہے کہ ہم غریب عوام اور اپنے صوبے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کریں۔ ہمارا معیار یہ ہے کہ بس عوام کی اصل معنوں میں خدمت کی جائے جس میں ڈرامے بازی نہ ہو۔مائنس بزدار کی بات آپ کے اپنے لوگوں سمیت بہت سے اور لوگ بھی کرتے ہیں؟ اس پر جواب دیتے ہوئے وزیر اعلی عثمان بزدار نے کہا کہ ‘جو یہ باتیں کرتے ہیں وہ سب میرے دوست ہیں۔ میں نے تو آج تک کسی کو اپنی کابینہ سے بھی نہیں نکالا۔ وہ سب یہاں میرے پاس آتے ہیں، مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔اس بارے میں ان کا مزید کہنا تھا کہ جو مجھے کہتے ہیں کہ مائنس بزدار، وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جو جھنڈا ان کی گاڑی پر لگا وہ میرے دستخط سے ہی لگا۔ میں چاہتا تو دستخط سے انھیں نکال بھی سکتا تھا لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔
