گوادر سے آزاد رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کر کے اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا۔
گوادر سے آزاد رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری، سابق صدر آصف علی زرداری، پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما ایاز صادق، سردار اختر مینگل اور مولانا عبدالغفور حیدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گوادرسے آزاد حیثیت سے رکن منتخب ہوا تھا، الیکشن آرہا ہے اب ہماری الیکشن کی طرف نظرہے، آصف زرداری کے میرے اوپربہت احسانات ہیں۔ سابق صدر جہاں بھی جائیں گے ان کا ساتھ دوں گا۔ ان کا حکم تھا میں حاضر ہو گیا ہوں۔ بلاول کا عزت دینے پر شکرگزار ہوں۔
زرداری کے دور میں بلوچستان کا این ایف سی ایوارڈ بڑھا۔ مسلم لیگ ق سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں کا رابطہ تو رہتا ہے، تمام پارٹیوں کو مل کر ملک کو بچانا ہو گا، مسلم لیگ (ق)والے تیار تھے پتا نہیں کیا ہوا۔ رات بارہ بجے وہ مجھے مبارک باد دینے اور لینے آتے ہیں، مگر معلوم نہیں پھر ق لیگ کو کیا ہوا، جس کواپوزیشن نامزد کرے گی وہی وزیراعلی پنجاب بنے گا۔ پنجاب میں بھی ہم اپنی مرضی کی تبدیلی لائیں گے، پنجاب میں مشاورت سے وزیراعلی کا امیدوارلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو احساس ہے پاکستان کو بچانا ہے، کچھ دوست پاور اور ہم پاکستان کا سوچ رہے ہیں، اقتدار تو آتا جاتا رہتا ہے، ہم سب نے مل کر ریفارمز کرنی ہے۔ اب پنجاب کے حوالے سے ملکر فیصلہ کریں گے،
اب پرویز الہی نے دیر کر دی ہے، اب وزیراعلی پنجاب وہی ہوگا جس کا فیصلہ اپوزیشن کرے گی، نمبرز گیم صرف ہمارے پاس ہیں۔سابق صدر نے کہا کہ پرویز مشرف مشرف بھی ملک کواسی نہج پرلے آیا تھا، مشرف کے بعد ہم نے حالات کو سنبھالا تھا، اس دفعہ بھی بیٹھ کرآئندہ کا راستہ بھی بنالیں گے۔ ایم کیوایم کی کسی ڈیمانڈ پر انکارنہیں کیا، پاکستان، کراچی کی ترقی کے لیے ہم نے ایم کیوایم کے ساتھ میوچل ورکنگ شپ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
