پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے امر باالمعروف جلسے میں بڑا سرپرائز دینے بلندو بانگ دعوے کے برعکس جلسے میں وزیر اعظم سمیت پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین کی طرف سے کوئی سرپرائز سامنے نہ آ سکا،جس پر سوشل میڈیا پر چہ مگوہیاں شروع ہو گئی ہیں کہ سرپرائز یہ ہے کہ کوئی سرپرائز نہیں ہے،تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے جلسے سے تقریبا ایک گھنٹہ50منٹ کی طویل تقریر کی،عمران خان کی تقریر میں کئی بار ایسے لمحات آئے جب انہوں نے یہ اشارہ دیا کہ وہ اس سرپرائز کا اعلان کرنے والے ہیں جس کیلئے انہوں نے یہ جلسہ طلب کیا تھامگر جلسے کے آخر میں انہوں نے غیر ملکی خط اور سازش کی بات کی،اس حوالے سے سیاسی ماہرین بھی یہ سوال کرتے نظر آئے کہ کیا یہ سرپرائز تھا جو عمران خان دینا چاہتے تھے ،ماہرین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر پاکستان کی منتخب حکومت کے خلاف کوئی غیر ملکی سازش ہو رہی ہے تو کیا متعلقہ ادارے اس سے بھی نیوٹرل رہیں گے یا ایسی کوئی سازش ہے ہی نہیں،دوسری جانب اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے طرح طرح کے تبصرے کیے،جس میں یہ سوال نمایاں نظر آیا کہ عمران خان کے جلسے میں سرپرائز کیا تھا۔
عمران خان کا سرپرائز کیا تھا،سوشل میڈیا پر خط زیر بحث
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
