وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک کے پیچھے غیر ملکی فنڈنگ ہے،ہمیں ثبوت مل گئے،حکومت کو لکھ کر دھمکی دی گئی ہے،میں قوم کو بتانا چاہتا ہوں ہمیں آزاد خارجہ پالیسی کی سزا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے
،ہم کسی صورت نہیں جھکیں گے، حکومت جاتی ہے تو جائے، جان جاتی ہے تو جائے، میں ان کو کبھی معاف نہیں کروں گا، ڈیزل کی قیمت 10 روپے کم کر دی،بڑے ڈاکو ملک تباہ کرتے ہیں، میں ٹیکس کا سارا پیسہ اپنی قوم پر خرچ کروں گا، نظریے پر کھڑے ہوں گے تو ایک قوم بنیں گے، دوسرے ممالک نے نبی اکرمۖ کے احکامات پر چل کر اپنی ریاستیں فلاحی بنائیں،میں گزشتہ 25سالوں سے اسی نظریے پر کھڑا ہوں، میرا عقیدہ ہے کہ ہمارا ملک اس وقت ترقی کرے گا جب وہ نبی اکرم ۖ کی سنت پر چلے گا، تین چوہے جو اکٹھے ہوئے ہیں وہ ملک کو 30سالوں سے چوس کر کھا رہے ہیں، ان کا پیسہ باہر پڑا ہوا ہے، سارا ڈرامہ اس لئے ہے کہ مشرف کی طرح عمران خان ان کو این آر او دے دے، میں ان کو کبھی معاف نہیں کروں گا،
حضور اکرمۖ نے فرمایا کہ میری بیٹی بھی جرم کرے گی تو اسے سزا ملے گی، اقلیتوں کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا تھا جو مسلمانوں کے ساتھ ہوتا تھا،ہم وہ خارجہ پالیسی لانا چاہتے ہیں جو جنگ میں کسی کے ساتھ شریک نہ ہو تاہم امن میں اکٹھے ہوں، اپوزیشن والے لوگوں کو خریدنے کیلئے پیسے لگا رہے ہیں،پاکستان کی تاریخ میں کسی حکومت نے ساڑھے تین سال میں اتنی کارکردگی نہیں دکھائی جو ہم نے دکھائی ہے، ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس میں سب کو انصاف ملے،ہماری حکومت گرانے کا سودا ہو رہا ہے، کوروناوبا کے دوران ہم نے ملک کو اس بحران سے بچایا،آج ملکی معیشت مضبوط ہے، تین چوہے جن میں سے ایک چیری بلاسم،دوسرا ڈیزل، تیسرا بیماری اور چوتھا بھگوڑا ہے، ان سب نے مجھ پر تنقید کی ، میں نے اس وقت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کیں جب دنیا مشکل میں تھی، ہماری برآمدات اس وقت ریکارڈ ہوئیں ، ہم نے سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا، بیرون ملک نے پاکستان کو مراعات دیں،سب سے زیادہ ڈالرز اور زر مبادلہ پاکستان آیا، سب یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے، ہم نے تعمیراتی صنعت کیلئے آسانیاں پیدا کیں، ہماری زراعت نے بہت ترقی کی، کسانوں سے پوچھیں کہ ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ پیسہ زراعت میں گیا، ریکارڈ پانچ فصلیں پیدا ہوئیں، گنا، چاول، گندم، مکئی اور آلو کی فصل نے ریکارڈ توڑے یہ سب کسانوں کی مدد کرنے کی وجہ سے ہوا۔
انہوں نے کہا کہ شوگر مافیا کسانوں کو پیسے نہیں دیتا تھا، ہم نے ان کے ساتھ کھڑے ہو کر کسانوں کو حقوق اور پیسہ دلوایا، ہماری ٹیکسٹائل اڈسٹری ریکارڈ برآمدات دے رہی ہے، اب مزدور نہیں ملتے، ہم نے انڈسٹری کو بڑا پیکج دیا، صنعت بڑھنے سے روزگار، ٹیکس اور پیسہ بڑھے گا، پہلی مرتبہ تنخواہ دار طبقے کو 30ارب روپے کی سبسڈی دی، پہلی مرتبہ بینک کرائے کے گھروں میں رہنے والے کم تنخواہ والے طبقے کو پیسے دے رہے ہیں، روٹی، کپڑا اور مکان کس کا مکان تھا اور اللہ یہ کام کس سے لے رہا، ہماری ٹیم نے 2 ہزار ارب کا جرمانہ ختم کرایا اور اسی مائننگ کمپنی کو پاکستان لائے اور وہی کمپنی ملک میں 9 ارب ڈالر کی سب سے بڑی اور تاریخی سرمایہ کاری کر رہی ہے، جس کا زیادہ پیسہ بلوچستان کو جائے گا،اتوار کو اسلام آباد کے پریڈ گرائونڈ میں امر بالمعروف جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپنی قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں
، اپنے پارلیمنٹیرینز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ آپ کو خریدنے کی کوشش کی گئی اور لالچ دی گئی آپ نے میری لاج رکھی، مجھے خوش کیا میں شکر گزار ہوں، میں نے آپ سے بڑی اہم باتیں کرنی ہیں، آج عوام دور دور سے آئی ہے، ارکان کے ضمیر خریدنے کی کوشش کی گئی آج میں نے دل کی باتیں کرنی ہیں، امر بالمعروف جلسے میں شرکت کی دعوت کا مقصد عوام کو نظریہ پاکستان کے بارے میں آگاہ کرنا ہے، یہ نظریہ مدینہ کی ریاست کی بنیاد پر فلاحی ریاست کا کام تھا۔ عمران خان نے کہا کہ 25سال پہلے جب اپنی جماعت بنائی تو میرا سیاست میں آنے کا مقصد نظریہ پاکستان کے تحت ملک کو چلانا تھا، لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ دین کو سیاست کیلئے کیوں استعمال کرتے ہیں، جلسے کے انتظامات بہتر کئے تاہم سائونڈ سسٹم اور لائٹس کے نظام میں مسائل پیدا ہو گئے، میری تمام باتوں میں آخر پر کی جانے والی بات بہت اہم ہو گی۔ وزیراعظم نے عوام کو میرے پاکستانیوں کہہ کر مخاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم نظریے پر بنتی ہے اور پاکستان کس نظریے کے تحت بنا، میں یہ آپ کو بتاتا ہوں،مجھے بھی کافی عرصہ سے نظریہ پاکستان کے بارے میں پتہ نہیں تھا، باہر جب گیا، کرکٹ کھیلی تو بعد میں ذاتی تجربے کی بناء پر نظریے کا پتہ چلا، مجھے جیسے جیسے دین کی سمجھ آنا شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ جس نظریے کے تحت پاکستان بنا وہ پاکستان میں نظر نہیں آرہا مگر مغرب میں نظر آرہا ہے، ایک عرب سکالرنے کہا کہ مجھے مغرب میں مسلمان تو نظرنہیں آیا لیکن اسلام نظر آیا اور پھر ایک اور دانشور نے کہا کہ مجھے مصر میں مسلمان تو نظر آئے مگر اسلام نظر نہیں آیا، مجھے برطانیہ میں فلاحی ریاست کا مقصد سمجھ آیا، جہاں صحت اور قانونی مدد ریاست دیتی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ حضور اکرمۖ نے پہلی مرتبہ ریاست مدینہ بنائی جس میں بیوائوں، غریبوں، معذوروں اور بوڑھوں کی ذمہ داری لی گئی، دوسرے ممالک نے نبی اکرمۖ کے احکامات پر چل کر اپنی ریاستیں فلاحی بنائیں اور چین نے کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا، نبی اکرمۖ سب انسانوں کیلئے رحمت اور اللہ تعالیٰ سب کے خدا ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریاست کو کمزور طبقے پر رحم کرنا چاہیے، ہم آگے نکل چکے ہیں، ہم وہ ریاست ہیں جس میں ترقی پذیر ممالک کی نسبت یونیورسل ہیلتھ کوریج ہے، جو کہ ہم نے اپنے نبی کریمۖ کی سنت پر چل کر دی، غریب کو سب سے بڑا مسئلہ بیمار کے علاج کا ہونا ہے، ہم وہ ہیلتھ انشورنس لے کر آئے ہیں جس کے تحت غریب سے غریب آدمی ایک پرائیویٹ ہسپتال میں اپنا علاج کرا سکتا ہے جس کے بارے میں وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا، ہمارا احساس پروگرام سب سے بہتر ہے، ہمارا کامیاب پاکستان کا پروگرام ہے جس کے تحت 20لاکھ خاندانوں کو بغیر سود قرضے دے رہے ہیں، پہلی مرتبہ نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کی کوشش ہو رہی ہے، نوجوانو!جب ٹیکس کا پیسہ آیا تو ہم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی، وزیر اعظم نے مولانا فضل الرحمان کا نام لئے بغیر ان پر طنز کے نشتر چلاتے ہوئے کہا کہ ڈیزل کی قیمت 10 روپے اور بجلی کی قیمت 5روپے فی یونٹ کم کر دی، میں ٹیکس کا سارا پیسہ اپنی قوم پر خرچ کروں گا، نظریے پر کھڑے ہوں گے تو ایک قوم بنیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ ہم نے قوم کے جنون کو قابو کر کے پاکستان کو دنیا کی عظیم ترین قوم بنانا ہے،میں گزشتہ 25سالوں سے اسی نظریے پر کھڑا ہوں، میرا عقیدہ ہے کہ ہمارا ملک اس وقت ترقی کرے گا جب وہ نبی اکرم ۖ کی سنت پر چلے گا، ہم جب 5سال مکمل کریں گے تو سارا پاکستان دیکھے گا کہ کسی حکومت نے اتنی تیزی سے غریبی کم نہیں کی، نبی اکرمۖ کا دوسرا اصول انصاف اور قانون کی حکمرانی تھا، قوم کیلئے سمجھنا ضروری ہے کہ میں کیوں ان کو این آر او دوں، پہلی قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ جب چھوٹا ڈاکو چوری کرتا تھا تو اسے جیل اور بڑے ڈاکوئوں کو این آر او دے دیا جاتا تھا ۔ عمران خان نے کہا کہ غریب ملک امیر اس لئے نہیں ہوتا کہ اس کے پاس وسائل کی کمی ہے بلکہ وہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی اور بڑے ڈاکوئوں کو وہاں سزا نہیں ملتی، چھوٹا نہیں بلکہ بڑا ڈاکو ملک کو تباہ کرتا ہے، تین چوہے جو اکٹھے ہوئے ہیں وہ ملک کو 30سالوں سے چوس کر کھا رہے ہیں، ان کا پیسہ باہر پڑا ہوا ہے، سارا ڈرامہ اس لئے ہے کہ مشرف کی طرح عمران خان ان کو این آر او دے دے، یہ اس لئے حکومت کو گرانے کی سازش کر رہے ہیں،پرویز مشرف نے پانی حکومت اور کرسی بچانے کیلئے ان چوروں کو این آر او دے کر ملک و قوم پر ظلم کیا، ہم ان کے قرضے ادا کرنے کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، جو این آر او کی وجہ سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جو چاہے کرلو حکومت جاتی ہے تو جائے، جان جاتی ہے تو جائے، میں ان کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نبی اکرمۖ نے ریاست مدینہ میں قانون کی بالادستی قائم کی تھی، ہماری تاریخ، دین اور دل میں حضرت علی کا عظیم مقام ہے، عدالت میں یہودی کے ساتھ کیس لگتا ہے تو حضرت علی خود جاتے ہیں، یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا انصاف کا نظام بہت اعلیٰ تھا، مسلمانوں کا خلیفہ بھی قانون سے بالاتر نہیں، حضور اکرمۖ نے فرمایا کہ میری بیٹی بھی جرم کرے گی تو اسے سزا ملے گی، اقلیتوں کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا تھا جو مسلمانوں کے ساتھ ہوتا تھا، آج کے معاشرے میں دنیا میں کسی بھی اقلیت کو تحفظ و حقوق نہیں ملتا چاہے وہ ترقی یافتہ ملک ہی کیوں نہ ہو، حضور اکرمۖ انسانیت کو اکٹھا کرنے آئے تھے تقسیم کرنے نہیں،ہم وہ ملک بننا چاہتے ہیں جو انسانوں کو اکٹھا کرے، ہم وہ خارجہ پالیسی لانا چاہتے ہیں جو جنگ میں کسی کے ساتھ شریک نہ ہو تاہم امن میں اکٹھے ہوں، اسلام نے خواتین کو حقوق دیئے، اس سے پہلے عورتوں کو وراثت و دیگر حقوق نہیں ملتے تھے، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ 70فیصد خواتین کو پاکستان میں ان کے حقوق نہیں ملتے، اب ایسا قانون لائے ہیں کہ اب ریاست ان کو وراثتی حق دلوائے گی، اسلام سے پہلے غلاموں کو حقوق نہیں ملتے تاہم حضور اکرمۖ نے دلوائے، وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اور دیگر ملکوں میں پھر غلاموں نے حکومتیں قائم کیں، ہم گھر کے ملازموں کو ان کے حقوق دیں جو نبی اکرمۖ کی نصیحت ہے۔ عمران خان نے کہا کہ آپ کو بتائوں کہ پاکستان کیوں اور کس نظریے کے تحت بنا، علامہ اقبال کا کیا خواب تھا، ہندوئوں نے پاکستان کی حمایت کی، وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ مدینہ کی ریاست کیسی ہوتی ہے،قرآن پاک نے امر بالمعروف کا سبق دیا کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ قوم کی ذمہ داری لگائی گئی کہ آپ برائی کے خلاف جہاد کریں اور اچھائی کے ساتھ کھڑے ہوں،امریکہ جب عراق پر حملہ کر رہا تھا تو برطانیہ میں 20لاکھ افراد جنگ کے خلاف کھڑے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن والے لوگوں کو خریدنے کیلئے پیسے لگا رہے ہیں، آپ عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ آئے اور اس جرم میں شریک نہیں ہوئے، سازش پر بات کرنے سے پہلے آپ کو بتا نا چاہتا ہوں کہ اپوزیشن نے ہماری حکومت گرانے کی سازش کی ہے، پاکستان کی تاریخ میں کسی حکومت نے ساڑھے تین سال میں اتنی کارکردگی نہیں دکھائی جو ہم نے دکھائی ہے، ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس میں سب کو انصاف ملے، وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوانوں کو بات سننے کیلئے ڈسپلن کا مظاہرہ کرنا ہو گا، ہماری حکومت گرانے کا سودا ہو رہا ہے، میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ 100 سال میں کورونا وائرس جیسا بڑا بحران آیا،پوری دنیا بند ہو گئی تاہم ہم نے ملک کو اس بحران سے بچایا، میں نے اس وقت بھی ملک کو بند نہیں کیا، میرے اوپر تنقید ہوئی کہ عمران خان ملک کو تباہ کر رہا ہے، سندھ والوں نے میری بات نہ مانی اور صوبہ بند کر دیا،اب ساری دنیا تعریف کر رہی ہے کہ ہم نے ملک ،معیشت، قوم اور غریبوں کو بچایا، اب سب سے کم بے روزگاری پاکستان میں ہے، کورونا کے دنوں میں اٹھائے گئے اقدام کی وجہ سے آج ملکی معیشت مضبوط ہے، تین چوہے جن میں سے ایک چیری بلاسم،دوسرا ڈیزل، تیسرا بیماری اور چوتھا بھگوڑا ہے، ان سب نے مجھ پر تنقید کی ، میں نے اس وقت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کیں جب دنیا مشکل میں تھی، ہماری برآمدات اس وقت ریکارڈ ہوئیں ، ہم نے سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا، بیرون ملک نے پاکستان کو مراعات دیں،سب سے زیادہ ڈالرز اور زر مبادلہ پاکستان آیا، سب یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے، ہم نے تعمیراتی صنعت کیلئے آسانیاں پیدا کیں، ہماری زراعت نے بہت ترقی کی، کسانوں سے پوچھیں کہ ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ پیسہ زراعت میں گیا، ریکارڈ پانچ فصلیں پیدا ہوئیں، گنا، چاول، گندم، مکئی اور آلو کی فصل نے ریکارڈ توڑے یہ سب کسانوں کی مدد کرنے کی وجہ سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شوگر مافیا کسانوں کو پیسے نہیں دیتا تھا، ہم نے ان کے ساتھ کھڑے ہو کر کسانوں کو حقوق اور پیسہ دلوایا، ہماری ٹیکسٹائل اڈسٹری ریکارڈ برآمدات دے رہی ہے، اب مزدور نہیں ملتے، ہم نے انڈسٹری کو بڑا پیکج دیا، صنعت بڑھنے سے روزگار، ٹیکس اور پیسہ بڑھے گا، پہلی مرتبہ تنخواہ دار طبقے کو 30ارب روپے کی سبسڈی دی، پہلی مرتبہ بینک کرائے کے گھروں میں رہنے والے کم تنخواہ والے طبقے کو پیسے دے رہے ہیں، روٹی، کپڑا اور مکان کس کا مکان تھا اور اللہ یہ کام کس سے لے رہا۔ عمران خان نے کہا کہ یہ 30 سالوں سے حکومت کر رہے ہیں، میں ان کو چیلنج کرتا ہوں کہ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پانی ہی نہیں، کراچی میں ٹینکر مافیا ہے، ہم نے 50سال بعد بڑے ڈیمز بنائے اور بھی بن رہے ہیں، خیبرپختونخوا والوں کیلئے خوشخبری ہے کہ 2025 میں مہمند ڈیم مکمل ہو رہا ہے جس سے پانی اور بجلی ملے گی،اس کے بعد داسو ڈیم 2027 میںبنے گا، 2028 میں سب سے بڑا دیامر بھاشا ڈیم بنے گا، ان کی تعمیر کے بعد ہمارے پاس دوگنا پانی ہو گا جو شہروں کو بھی ملے گا اور فصلوں کو بھی، ان کی تعمیر سے پاکستان میں پیسہ آئے گا۔ وزیراعظم نے امر بالمعروف جلسہ سے خطاب میں کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری حکومت نے کیا کیاہے میں قوم کو بتاتا ہوں اور ٹی وی اینکرز سے کہتا ہوں کہ وہ معاشی ماہرین کو بلائیں اور تجربہ کروائیں کہ ہم نے ساڑھے تین سالوں میں کیا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مریم بی بی جس نے زندگی میں دو گھنٹے کام نہیں کیا اور کانپیں ٹانگنے والے ، جس کو 14سالوں میں اردو بولنا نہیں آئی آصف زرداری اس کو کچھ ٹائم دینا تھا، یہ لیڈر بننا چاہتا تھا، یہ دھمکیاں دیتا ہے اور کہتا ہے کہ نیب بلائے گا تو کیا کروں گے تو یہ کہتا ہے کہ میں رو پڑوں گا، وزیر اعظم نے کہا کہ ہم لاہور میں راوی شہر بنا رہے ہیں اس سے آلودگی کم ہو رہی ہے، ہم درخت بھی لگائیں گے، بیراج بنائیں گے،اسلام آباد کے بعد دوسرا بڑا میگا پراجیکٹ راوی ہے، لوگ اب لاہور کے ماڈرن ڈسٹرکٹ کی طرف جائیں گے، اب راولپنڈی کو ماڈرن شہر بنانے کیلئے نالہ لئی پراجیکٹ بنائیں گے، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ہوں گے۔
