Friday, May 8, 2026
ہومکالم وبلاگزبلاگزفطرت شناس ادیب۔۔۔ سعید اختر ملک

فطرت شناس ادیب۔۔۔ سعید اختر ملک

تحریر:عفت رؤف
سعید اختر ملک پاکستان سول سروس کے ایک نامور افسر شاہی رہے حد درجہ مصروفیات کے باعث ادبی تخلیق کا گوشہ ان کی زندگی میں تا دیر خالی رہا اس دوران ان کے افسانوں کا ایک ہی مجموعہ”سوچ دالان”منظرعام پر آسکا جس میں بانو قدسیہ اور رشید امجد جیسے صف اول کے ادیبوں نے اپنی قیمتی آرا رقم کیں ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے پوری تندہی سے دوبارہ آغاز سفر کیا تو مختصرو نسبتاً طویل افسانوں اور افسانچوں پر مبنی دوسرا مجموعہ”سوچ دروازے” طباعت آشنا ہوا جس کی روحانی ثروت مندی سے محترم فتح محمد ملک صاحب خوب متاثر ہوئے شہرہ آفاق افسانہ نگار جناب محمد حمید شاہد صاحب نے ملک صاحب کے افسانوں کو برجستہ کہانیاں کہہ کر مخاطب کیا اور باور کرایا کہ سعید اختر ملک نے اپنی تخلیقی روش کو مقدم رکھا بسا اوقات افسانے کے لوازمات سے پہلو تہی بھی کی لیکن اپنی من مرضی کی۔
سعید اختر ملک انسانی جذبوں میں مادیت پسندی کے شدید مخالف رہے یہ شاہی افسر فطرت کی شاہ کاریوں کے غلام بنےگھن گرجتے پروٹوکولز میں بھی کوئل کی کوک کو یاد رکھا۔ اے سی کی ٹھنڈک بھی مرطوب ہواؤں کو فراموش نہ کراسکی ، مسکن آبائی کی تزئین و آرائش میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی،ارباب اختیار کے دوستانے میں بھی ممدو نائی کا ساتھ نہ چھوڑا سب سے بڑھ کر آبائی علاقے میں معیاری تعلیمی اداروں کا جال بچھایا تاکہ اہل علاقہ کا معیار تعلیم وزندگی بہترین بنایا جا سکے
جہاں تک کتاب”سوچ دروازے”کا تعلق ہے تو لفظ”سوچ”کی تکرار جاری رہی ساتھ ہی لفظ”روٹھی”کی گردان روٹھی کہانیوں میں دکھائی دی دراصل فکر کی جگہ “سوچ”اور ناراض کی جگہ “روٹھی”الفاظ کا چناؤ ملک صاحب کا اپنی مٹی سے گہرا ربط ظاہر کرتے ہیں کیونکہ پنجابی زبان کے یہ الفاظ دیہاتوں میں عام طور پر کثرت سےبولے جاتے ہیں فطرت سے ان کی قربت سر فہرست ہے جب کہ ان کی افتاد طبع اسلوب بیاں اور موضوعات کے چناؤ میں حاوی رہی۔
کہانیوں کے صنفی کرداروں میں مجموعی طور پر سنجیدگی نظر آئی “سوچ دروازے”اور “نسخہ”کی طالبات روحانیت، تصوف اور فلسفے کی گرویدہ اور پختہ نظریات کی حامل ہیں جبکہ مرد کرداروں میں جہاں عمیر جیسا ذہین طالبعلم ہے وہاں روٹھی موٹر سائیکل کا بے بس نوجوان اور روٹھی ماں کا نافرمان بیٹا بھی نظر آیا پہلی موت اور جنت کا ٹکٹ کے اطفالی معصوم کرداروں میں پنہاں متانت قابلِ تعریف ہے سعید اختر ملک نے دیہی کرداروں بابا فتح دین،ماسی کمالاں ،اماں نذیراں،چاچا اقبال،خقش رہنا اور بابا اورنگزیب کا مختصر مگر جامع تعارف کرایا اپنی عملی زندگی کا آغاز بطور استاد کرنے والے ملک صاحب نے دو اساتذہ پروفیسر رحمان اور خلش ہمدانی کا تذکرہ معتبر انداز میں کیا
سوچ دروازے میں مختلف احساسات کا ہرچار بھی کیا گیا ہے مردہ زندگی،معلوم کا دکھ اور پہلی موت میں موت کا خوف ڈیرے ڈالے ہوئے ہے خالی پلیٹ”حقیقی جذبوں سے عاری مادیت پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو اس شعر کے عین مطابق ہے
نہ میں نے شہر میں سچی محبتیں دیکھیں
نہ مجھ کو نہر میں کچا گھڑا نظر آیا
مصنف کے ہاں رومانوی فضا تخیلاتی ہے اقرار جزیرہ اور سنہری ربن یہ بھید کھول رہے ہیں کہ ملک صاحب کا رومانس ہنوز محو گردش ہےلیکن خیال خوبصورتی سے تراشا ہوا ہے میرا ذاتی خیال ہے کہ لکھاری سازگار فضا میں ابھر کر سامنے آتا ہےملک صاحب نے ہم عصروں کی مانند کتابوں کے ڈھیر مسلط کرنے کی بجائے اپنے آبگینہ نما احساسات کو تاخیر سے صحیح مگر کمال خوبصورتی سے قارئین تک منتقل کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔