ہومپاکستانچیئرمین سینیٹ کا پاکستان اور چین کے مابین پارلیمانی تعاون مزید مضبوط بنانے ، معاشی تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور

چیئرمین سینیٹ کا پاکستان اور چین کے مابین پارلیمانی تعاون مزید مضبوط بنانے ، معاشی تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور

اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان اور چین کے درمیان پارلیمانی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور باہمی تجربات کے تبادلے کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کا طرزِ حکمرانی، ادارہ جاتی ترقی، طویل المدتی منصوبہ بندی اور معاشی تبدیلی کا تجربہ پاکستان کے قانون ساز اور پالیسی ساز اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے قابلِ قدر رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔پاکستان چائنا ریسرچ سینٹر فار پارٹی اینڈ اسٹیٹ گورننس کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی باہمی احترام، اعتماد اور عوامی روابط کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے، جسے مزید مستحکم بنانے کے لیے پارلیمانی اور ادارہ جاتی سطح پر تعاون ناگزیر ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبے کے وزیر لیو ہائی شینگ اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔

انہوں نے پاکستان چائنا اکنامک اینڈ کلچرل کونسل کو ریسرچ سینٹر کے قیام پر مبارکباد دیتے ہوئے اعزازی چیئرمین کی ذمہ داری سونپنے پر شکریہ ادا کیا۔پاکستان اور چین کے تعلقات کی تاریخ پر مشتمل تصویری نمائش کا حوالہ دیتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ تصاویر محض سفارتی کامیابیوں کی عکاسی نہیں کرتیں بلکہ ایک ایسی لازوال دوستی کی داستان بیان کرتی ہیں جو باہمی احترام، اعتماد اور عوامی روابط سے عبارت ہے۔ انہوں نے اپنے خاندان کے چین کے ساتھ تاریخی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد نے 1956 میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے چین کا دورہ کیا تھا۔پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان نے اس تاریخی موقع پر متفقہ قرارداد منظور کرکے دونوں ممالک کی لازوال دوستی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی سیاسی وابستگیوں اور سماجی تفریق سے بالاتر ہے اور تمام سیاسی جماعتوں اور طبقات میں اس دوستی کے حوالے سے مکمل قومی اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔

چین کے ساتھ آہنی بھائی چارے اور ہر آزمائش پر پورا اترنے والی دوستی پاکستان کی مشترکہ قومی ترجیح ہے۔چینی قیادت کے ساتھ اپنے روابط کا ذکر کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ 2010 میں وزارتِ عظمی کے دور میں انہوں نے چینی وزیراعظم وین جیا با کا پارلیمنٹ ہاس میں استقبال کیا، جبکہ بطور چیئرمین سینیٹ نیشنل پیپلز کانگریس کے اعلی سطحی وفد کی میزبانی کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 105ویں سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ چین کا ادارہ جاتی تسلسل، طویل المدتی منصوبہ بندی اور ترقی کا ماڈل سنجیدہ علمی اور ادارہ جاتی مطالعے کا متقاضی ہے۔ انہوں نے غربت کے خاتمے، دیہی ترقی، ڈیجیٹل گورننس، صنعتی ترقی اور عوامی انتظام و انصرام کے شعبوں میں چین کی نمایاں پیش رفت کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان تجربات سے پاکستان میں عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے اور حکومتی اداروں کی استعداد کار بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان اپنے قانون سازی اور نگرانی کے کردار کو مزید مثر بنانے کے لیے مستند معلومات، بہتر فیصلہ سازی اور ادارہ جاتی تجربات سے استفادے پر یقین رکھتی ہے۔ علم، تحقیق اور کامیاب حکومتی تجربات کا تبادلہ بہتر پالیسی سازی اور عوامی فلاح و بہبود کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔اقتصادی تعاون کے حوالے سے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سی پیک 2.0 پاکستان اور چین کے درمیان زراعت، صنعتی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، جدت، ماحول دوست ترقی اور علاقائی روابط کے فروغ کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دوطرفہ شراکت داری کے اگلے مرحلے میں ان مواقع کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے، تاکہ سرمایہ کاری، روزگار کے نئے مواقع، ہنرمندی کے فروغ اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کو یقینی بنایا جا سکے۔چیئرمین سینیٹ نے پاکستان چائنا ریسرچ سینٹر فار پارٹی اینڈ اسٹیٹ گورننس کی اعزازی چیرمین شپ قبول کرتے ہوئے اس کے قیام کو بروقت اور اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز تحقیق، پالیسی مکالمے اور عملی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مثر ادارہ جاتی پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مرکز تحقیق اور پالیسی سازی کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ دانشوروں، جامعات، تھنک ٹینکس، سرکاری اداروں اور متعلقہ پارلیمانی فورمز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے حکمرانی اور ترقی سے متعلق چیلنجز کے حل میں معاون ثابت ہوگا۔اعزازی چیئرمین کی حیثیت سے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ اس مرکز کے پارلیمانی اداروں اور تحقیقی تنظیموں کے ساتھ روابط کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے پارلیمنٹیرینز، پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم اور نوجوان نسل کے درمیان تبادلہ خیال اور تعاون کے مواقع بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔آخر میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی محض ماضی کا ورثہ نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک مشترکہ ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے اس دیرینہ تعلق کو مزید مضبوط بنانے اور آنے والی نسلوں تک نئے عزم اور جذبے کے ساتھ منتقل کرنے کے لیے پارلیمانی روابط اور ادارہ جاتی تعاون میں مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ہماری دوستی ایک ورثہ ہے، لیکن اس کا مستقبل ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی دیرینہ اور لازوال شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔