اسلام آباد (سب نیوز)پاک اقوام متحدہ کانفرنس کے تیسرے روز موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات سے نمٹنے اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے خلائی اور جیو اسپیشل ٹیکنالوجی کے موثر استعمال پر خصوصی توجہ مرکوز رہی، جس میں ملکی اور غیر ملکی ماہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ادارہ برائے خلائی و بالواسطہ تحقیق (سپارکو)کے مطابق کانفرنس کے دوران منعقد ہونے والے تین اہم تکنیکی سیشنز اور دو پینل مباحثوں میں عالمی ماہرین نے موسمیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے، ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے اور قدرتی آفات کی بروقت نگرانی میں خلائی ٹیکنالوجی کے کلیدی کردار پر تفصیلی تبادل خیال کیا۔ اجلاس کے دوران جدید سیٹلائٹس کے ذریعے فضائی آلودگی کی سطح، جنگلات کے کٹا و اور پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کی مستقل نگرانی کی اہمیت کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا گیا، جب کہ ملک میں شدید بارشوں، متوقع خشک سالی اور زرعی پیداوار کی بہتر نگرانی کے لیے جیو اسپیشل ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی سیرحاصل گفتگو کی گئی۔
سپارکو کے مطابق کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قدرتی آفات سے عوام کو بروقت آگاہی فراہم کرنے اور ممکنہ مالی و جانی نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لیے قبل از وقت انتباہی نظاموں میں خلائی معلومات کو لازمی طور پر شامل کیا جائے۔ سیلاب سے بچا وکے اقدامات اور موسمیاتی خطرات میں کمی کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا گیا۔ اس کے علاوہ، کانفرنس کے شرکا نے فصلوں کو موسمیاتی نقصانات سے پہنچنے والے مالی نقصان کے تخمینے اور متاثرہ شعبوں کے لیے مالی معاونت اور بیمہ پالیسیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے کردار کا بھی جائزہ لیا۔ ماہرین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ماحولیاتی تحفظ، پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لیے بین الاقوامی سطح پر باہمی تعاون کو فروغ دینا اور خلائی ٹیکنالوجی سے مکمل استفادہ کرنا ناگزیر ہے۔
پاک اقوام متحدہ کانفرنس، سیلاب اور موسمیاتی خطرات کی خلائی نگرانی پر غور
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
