اسلام آباد(آئی پی ایس )اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے منگل کے روز سعودی عرب کے پاکستان میں نئے تعینات ہونے والے سفیر ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی نے آج پارلیمنٹ ہاس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات، دوطرفہ تعاون، علاقائی امن و استحکام، باہمی دلچسپی کے امور اور دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے مابین روابط کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی کو پاکستان میں بطور سعودی سفیر تعیناتی پر مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی سفارتی ذمہ داریوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب کی مانند ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ مذہب، اخوت، محبت، باہمی اعتماد اور احترام کے لازوال رشتوں پر استوار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا قابلِ اعتماد دوست اور مخلص برادر ملک ہے، جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات محض سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہری عقیدت، محبت اور بھائی چارے پر مبنی مضبوط تعلقات پائے جاتے ہیں۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی باہمی تعاون، یکجہتی اور مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کی سلامتی ہے۔
انہوں نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں اور تنازعات کے حل کے لیے مکالمے، سفارت کاری اور باہمی تعاون کو ترجیح دیں۔ملاقات کے دوران علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے مکہ معاہدے کو خطے میں امن، استحکام اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے معاہدے مکالمے، تعاون اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے اختلافات کے حل اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ علاقائی ممالک باہمی اعتماد اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کو فروغ دیتے ہوئے امن و استحکام کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔سردار ایاز صادق نے دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے درمیان روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی سفارت کاری پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو نئی جہت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانی وفود کے تبادلوں، مشترکہ اجلاسوں اور ادارہ جاتی رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کے قانون سازوں کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کے لیے اہمیت رکھتے ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے خیرسگالی کے کلمات اور پرتپاک استقبال پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور دیرینہ دوستی کی عکاسی کرتے ہیں۔سعودی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط برادرانہ تعلقات خطے میں امن و استحکام کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے مکہ معاہدے کو خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی مسائل کے حل اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مکالمے اور تعاون کا تسلسل ناگزیر ہے۔ انہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی قابلِ ستائش قرار دیا۔دونوں رہنماں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، پارلیمانی روابط کو فروغ دینے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
