اسرائیل میں عام انتخابات کے موقع پر راماتگان میں انتخابی بل بورڈ پر وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی آرمی چیف و یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ کی تصاویر آویزاں ہیں۔ بل بورڈ پر درج ہے: ’’تبدیلی خطرے میں ہے‘‘۔
اسرائیل میں عام انتخابات کے سلسلے میں ووٹنگ کا آغاز ہو گیا ہے، ووٹنگ کا عمل مقامی وقت رات 10 بجے تک جاری رہے گا۔
انتخابات کے دوران 7.3 ملین افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، جبکہ اسرائیلی پارلیمنٹ کی 120 نشستوں پر حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی اکثریت درکار ہو گی۔
اسرائیل میں یہ 7 اکتوبر 2023ء کے حملوں کے بعد پہلے عام انتخابات ہیں۔ ان انتخابات کو اسرائیلی تاریخ کے سب سے اہم اور فیصلہ کن انتخابات قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابی نتائج سے نہ صرف نیتن یاہو کی سیاسی بقا بلکہ ملک کی آئندہ داخلی اور خارجہ پالیسی کی سمت بھی متعین ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے حکمران بلاک اور اپوزیشن بلاک کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ اپوزیشن میں سابق فوجی سربراہ جنرل گادی آئزنکوٹ اور سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نمایاں شخصیات ہیں۔
اسرائیل میں عام انتخابات کے دوران جوائنٹ لسٹ پارٹی کے فلسطینی امیدوار یوسف جبارین شمالی اسرائیل کے عرب شہر ام الفحم میں اپنا ووٹ ڈال رہے ہیں۔ (فوٹو: رائٹرز)
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پولنگ ختم ہونے کے بعد اسرائیلی ٹی وی چینلز ایگزٹ پولز جاری کریں گے، جن سے انتخابی نتائج کے ابتدائی رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔ اس کے بعد ووٹوں کی گنتی کے نتائج سامنے آنا شروع ہوں گے۔
اگر کسی ایک جماعت یا جماعتوں کے اتحاد کو پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل نہ ہوئی تو حکومت سازی کی صورتِ حال واضح ہونے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ ووٹوں کی حتمی گنتی 30 اکتوبر تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جبکہ سرکاری نتائج باضابطہ طور پر 4 نومبر کو جاری کیے جائیں گے۔
رائٹرز کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کی اقتدار پر گرفت ان انتخابات میں داؤ پر لگی ہوئی ہے، جبکہ ان کے حریف اعتدال پسند رہنما ملک میں ایک نئے دور کے آغاز کا وعدہ کر رہے ہیں۔
اسرائیل میں عام انتخابات کے دوران صدر اسحاق ہرزوگ اور ان کی اہلیہ میخال ہرزوگ یروشلم کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈال رہے ہیں۔ (فوٹو: رائٹرز)
امریکا میں قائم غیر منافع بخش تنظیم ایڈ کولیشن کے مطابق اسرائیل میں ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے بیرونِ ملک مقیم ہزاروں اسرائیلی شہری وطن واپس پہنچے ہیں۔
اسرائیلی قانون کے تحت عام طور پر شہریوں کے لیے ملک کے اندر ذاتی طور پر ووٹ ڈالنا ضروری ہے، تاہم بیرونِ ملک تعینات سفارتکاروں اور بعض سرکاری نمائندوں کو محدود استثنا حاصل ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ بیرونِ ملک سے واپس آنے والے ووٹرز انتخابی نتائج پر کس حد تک اثرانداز ہوں گے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران وزیراعظم نیتن یاہو کے مخالف بہت سے لبرل اسرائیلی شہری ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہوئے ہیں۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ووٹ ڈالنے کے لیے بیرونِ ملک سے واپس آنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نیتن یاہو کی مخالف ہو سکتی ہے۔
ایڈ کولیشن کے اندازے کے مطابق تقریباً 67 ہزار اسرائیلی ووٹ ڈالنے کے لیے بیرونِ ملک سے واپس آ سکتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً نصف امریکا سے آ رہے ہیں، جبکہ دیگر شہری یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے اسرائیل پہنچے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی 120 نشستوں پر مشتمل پارلیمان، جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے، کے انتخابات عام طور پر ہر چار سال بعد ہوتے ہیں، تاہم ملک میں قبل از وقت انتخابات بھی اکثر منعقد ہوتے رہے ہیں۔ کنیسٹ کی نشستیں متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت جماعتوں کو حاصل ہونے والے ووٹوں کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہیں۔
اسرائیل میں اب تک کوئی ایک جماعت تنہا پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی، اس لیے حکومتیں مختلف جماعتوں کے اتحاد سے تشکیل پاتی ہیں۔ حکومت سازی کیلیے مذاکرات اکثر کئی ہفتوں تک جاری رہتے ہیں، اگر نامزد امیدوار حکومت بنانے میں ناکام رہتا ہے تو دوسرے امیدواروں کو موقع دیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی بھی حکومت تشکیل نہ دے تو نئے انتخابات کرائے جا سکتے ہیں، اس دوران موجودہ کابینہ نگران حکومت کے طور پر کام کرتی رہے گی۔
اسرائیل میں عام انتخابات کیلئے ووٹنگ شروع، نیتن یاہو اور جنرل آئزنکوٹ میں سخت مقابلہ متوقع
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
