راولپنڈی : راولپنڈی کینٹونمنٹ بورڈ کے رہائشی علاقوں میں پینے اور گھریلو استعمال کے پانی کا بحران سنگین رخ اختیار کر گیا ہے، جہاں کینٹ حکام کی ناقص منصوبہ بندی کے نتیجے میں 48 گھنٹوں کے طویل تعطل کے بعد محض 15 سے 25 منٹ کی برائے نام فراہمی کی جا رہی ہے۔ اہلیانِ علاقہ بوند بوند کے لیے ترس گئے ہیں جبکہ باقاعدگی سے بھاری بھرکم واٹر بلز تھمائے جا رہے ہیں۔ مجبوری کے تحت گھروں میں ڈرموں، ٹینکوں اور کھلے برتنوں میں پانی ذخیرہ کرنے کی وجہ سے علاقے میں ڈینگی لاروا کی افزائش اور ڈینگی وائرس کا پھیلاؤ بھی شدت اختیار کر رہا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری شہریوں نے کینٹ بورڈ کی غلط پالیسیوں پر عائد کی ہے۔
اہلیانِ علاقہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران کینٹ کے اندر نئے انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینکوں کی تعمیر، ٹیوب ویلز کو فعال بنانے اور نئی پائپ لائنز بچھانے کے لیے رکن قومی اسمبلی و چیئرمین قائمہ کمیٹی ملک ابرار احمد نے کروڑوں روپے کے فنڈز فراہم کیے، حتیٰ کہ بجلی کے بریک ڈاؤن سے ہٹ کر ٹیوب ویلز کو فعال رکھنے کی خاطر 10 کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ سے سولر سسٹم کا منصوبہ بھی دیا گیا تاکہ شہریوں کو بلاتعطل پانی مل سکے۔ اہلیانِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اتنے وسیع انفراسٹرکچر اور خطیر حکومتی فنڈز کے باوجود 48 گھنٹوں بعد پانی کی فراہمی سمجھ سے بالاتر اور انتظامی نااہلی کا کھلا ثبوت ہے۔
شہریوں نے الزام عائد کیا کہ کینٹ بورڈ کے شعبہ واٹر سپلائی کے نچلے عملے پر مشتمل مافیا نے پانی کی فراہمی کا ایک مخصوص اور من پسند نظام بنا رکھا ہے۔ لائنوں میں پانی چھوڑنے یا موٹر چلانے سے پہلے مخصوص بااثر افراد کو پیشگی پیغامات بھیج کر مطلع کیا جاتا ہے، جس سے عام گلیوں اور نادار شہریوں کو محروم رکھ کر پانی صرف انہی افراد کو فراہم کیا جاتا ہے جو اس مافیا کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ کینٹ بورڈ کے بیشتر بڑے باؤزرز اور پانی کی ترسیل کے لیے مختص سوزوکی و شہ زور جیسی چھوٹی گاڑیاں ہفتے میں چار چار دن ورکشاپوں کی نذر رہتی ہیں، جس کے باعث شہری نجی ٹینکر مافیا سے 5 ہزار روپے فی ٹینکر مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ واسا اور ایل ڈی اے کے برعکس کینٹ بورڈ کا ترسیلی نظام مکمل مفلوج ہو چکا ہے۔
اہلیانِ علاقہ نے ایم این اے ملک ابرار احمد ، ایم پی اے ملک افتخاراحمد، ڈی جی ایم ایل سی، قومی و صوبائی اسمبلی، اسٹیشن کمانڈر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کینٹ بورڈ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ شعبہ واٹر سپلائی کے اندر موجود مافیا، پائپ لائنوں سے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم اور ورکشاپوں میں کھڑی گاڑیوں کے معاملے پر فوری طور پر ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جائے، واٹر سپلائی نیٹ ورک کی براہِ راست نگرانی کی جائے اور شہریوں کو بلاامتیاز، منصفانہ اور بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
دوسری جانب اس معاملے پر راولپنڈی کینٹونمنٹ بورڈ کا موقف جاننے کے لیے ترجمان کینٹ بورڈ عمران حبیب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی موقف دیا اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی جواب دیا۔
