کینٹ بورڈ کی بنیادی ذمہ داریوں میں صحت کی فراہمی شامل ہے، عوامی سہولت چھننے نہیں دیں گے: چیئرمین قائمہ کمیٹی ملک ابرار احمد کی وفد کو یقین دہانی
راولپنڈی: لالکڑتی میں قیامِ پاکستان سے قبل قائم تاریخی ڈسپنسری کی ممکنہ بندش کے خلاف اہل علاقہ سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔ شہریوں نے وزیر دفاع، سیکرٹری دفاع اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس (ڈی جی ایم ایل سی) سمیت اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
علاقے کے معززین حاجی جمیل، حاجی شبیر، خان اخلاق، ارشد قریشی اور مرزا غلام مصطفیٰ پر مشتمل ایک وفد نے چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن ملک ابرار احمد سے ملاقات کی اور انہیں صورتحال سے تفصیلی آگاہ کیا۔
وفد نے بتایا کہ لالکڑتی کی یہ ڈسپنسری تقسیمِ ہند سے قبل قائم کی گئی تھی، جسے بعد ازاں کینٹونمنٹ بورڈ حکام نے موجودہ جگہ پر منتقل کیا۔ ریجنل ڈائریکٹر اور ایم ایل سی ہیڈ کوارٹر کی خصوصی کاوشوں سے یہاں جدید لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا گیا اور جدید تشخیصی آلات فراہم کیے گئے۔ لالکڑتی اور گردونواح سے یومیہ سینکڑوں نادار و غریب شہری یہاں علاج کی غرض سے آتے ہیں جو نجی ہسپتالوں کا مہنگا علاج برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ اس تاریخی اور فعال طبی مرکز کی ممکنہ بندش سے ہزاروں مریض بنیادی علاج اور تشخیصی سہولیات سے محروم ہو جائیں گے۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی ملک ابرار احمد نے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کینٹونمنٹ بورڈ کے بنیادی فرائض اور دائرہ کار میں شہریوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا سرِفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ادارے کیوں اتنی عجلت میں ایسے فیصلے صادر کر دیتے ہیں جن سے پورا علاقہ اور غریب طبقہ براہِ راست متاثر ہو۔
ملک ابرار احمد نے وفد کو مکمل یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کو قومی اسمبلی، قائمہ کمیٹی، سیکرٹری دفاع اور ڈی جی ایم ایل سی سمیت ہر بااختیار فورم پر بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے اور اہل علاقہ سے ان کی یہ بنیادی اور تاریخی طبی سہولت کسی صورت چھننے نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب اس معاملے پر کینٹونمنٹ بورڈ کا موقف جاننے کے لیے ترجمان کینٹ بورڈ عمران حبیب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی موقف دیا اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی جواب دیا۔
