اسلام آباد: وزیرخارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ‘وفاقی حکومت کے پاس خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔’
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کا فیصلہ گزشتہ روز کیا گیا جس کے بعد صدر مملکت نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی منظوری دی تھی۔
اسحاق ڈار کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانا کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا،دھرنوں اوراحتجاج کے باعث معیشت کوشدید نقصان پہنچا،خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے۔
وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال ہورہی ہے۔انہوں نے افغان رجیم پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کودہشتگردی کیخلاف استعمال نہ ہونےدے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کےمعاملے پربات چیت کیلئے افغانستان کےدورے بھی کیے،افغانستان میں ٹی ٹی پی دہشتگرد پناہ لیے ہوئے ہیں اوریہ پاکستان کیخلاف سرگرم ہیں، بھارت پاکستان میں دہشتگردی اور بدامنی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے افغانستان میں دہشتگرد گروپوں کی موجودگی کو خطے میں امن کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے لاحق دہشت گردی کا خطرہ پورے خطے کی سکیورٹی کیلئے بڑا چیلنج ہے، افغان سرزمین سے دہشتگردی کے خاتمے کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں،افغان حکام اپنے بین الاقوامی اور دوطرفہ وعدے پورے کریں۔
وزیر خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ شہریوں کی حفاظت اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،عالمی برادری افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی کا نوٹس لے،افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا،خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کونظر اندازنہیں کیاجاسکتا۔
اس سے قبل وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑکا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردوں کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑا جاسکتا تھا اس لیےایمرجنسی لگی،13سالوں میں پی ٹی آئی حکومت دہشتگردی کو قابو نہ کرسکی، دہشتگردی میں لوگوں کوشہید کیاجا رہا تھا مگرصوبائی حکومت غافل رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں پانی سرسے گزرگیا تو یہ انتہائی قدم اٹھایا گیا، ایمرجنسی اورگورنرراج خیبرپختونخوا کےلوگوں کےتحفظ کیلئے لگائی گئی۔
وفاقی وزیراطلاعات نے سوالات اٹھائے کہ این ایف سی کی مد میں خیبرپختونخوا حکومت کو فنڈ دیا گیا وہ کہاں خرچ ہوا؟ صوبے میں سی ٹی ڈی کومتحرک کیوں نہیں کیا گیا؟ کئی اضلاع میں سیف سٹی کیمرے کیوں نہیں نصب کیے گئے؟
عطاتارڑ کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کوجدید اسلحہ فراہم نہیں کیا گیا، صوبائی معاملات نظر اندازکیے گئے، عوام کے جان ومال کاتحفظ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ہم کہتے رہے کہ عمران خان سے ملاقات بھی ہوجائے گی مگردہشتگردی کیخلاف کیا حکمت عملی ہے؟ پی ٹی آئی حکومت دہشتگردی کیخلاف اقدامات سےگریزاں رہی،خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کوفری ہنڈ نہیں دیا جا سکتا۔پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہزاروں قربانیاں دیں، پاکستانیوں کی قربانیوں سے ہی ملک محفوظ ہے۔
امریکا ایران جنگ کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کا کردار دنیا کےسامنے ہے، وزیراعظم شہبازشریف نے قیام امن کیلئے بہترین کردار ادا کیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے افغانستان کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے اس خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہر قسم کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،افغان حکومت اپنی زمین سے دہشت گردی روکے، دہشت گردی کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا۔
عطا اللہ تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال ہورہی ہے، ہم نے عالمی فورمزپرافغانستان سے دہشتگردی کیخلاف آوازاٹھائی ہے، پاکستان پرامن، مستحکم اورخوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں، وہاں ٹی ٹی پی کے6 ہزارسے زائد دہشتگرد پناہ لیے ہوئے ہیں، پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے ہراقدام اٹھائے گا۔
‘خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، اسحاق ڈار’
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
