اسلام آباد برطانیہ کے وزیر مملکت برائے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان اسٹیفن ڈوٹی نے پاکستان کا اپنا پہلا دورہ مکمل کرلیا، جس کے دوران انہوں نے پاکستانی سیاسی، عسکری، تعلیمی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔
دورے کے دوران برطانوی وزیر نے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں اقتصادی ترقی، تجارت، علاقائی سلامتی، افغانستان میں استحکام، انسداد دہشت گردی تعاون اور خطے میں کشیدگی کے خطرات کو کم کرنے سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسٹیفن ڈوٹی نے پاکستانی اور برطانوی تعلیمی رہنماؤں کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں، جن میں دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے اور برطانوی تعلیمی پروگراموں تک رسائی بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔ فریقین نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، ریاضی، صحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر بھی غور کیا۔
برطانوی حکومت کے مطابق 2024-25 کے دوران پاکستان میں 15 ہزار سے زائد طلبہ نے ٹرانس نیشنل ایجوکیشن کے ذریعے برطانیہ کی تعلیمی اسناد حاصل کیں، جو گزشتہ ایک دہائی کے مقابلے میں 83 فیصد اضافہ ہے۔ پاکستان اس وقت برطانیہ کی ٹرانس نیشنل ایجوکیشن کا دنیا میں چوتھا بڑا میزبان ملک ہے جبکہ پاکستانی ٹی این ای مارکیٹ میں برطانوی اداروں کا حصہ تقریباً 65 فیصد ہے۔
برطانوی وزیر نے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان عوام، کاروباری اداروں اور مختلف اداروں کے روابط پر مبنی گہرے اور تاریخی تعلقات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی ترقی، تجارت، تعلیم، سیکیورٹی اور علاقائی استحکام سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں مزید تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، بالخصوص برطانوی اور پاکستانی جامعات کے درمیان شراکت داری میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے نوجوانوں کو مستقبل کے لیے درکار مہارتیں حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
برطانوی کونسل آئندہ مارچ میں برطانیہ کی جامعات کے ایک وفد کو پاکستان لانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے درمیان مزید شراکت داری کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔ برطانوی حکومت نے دہائی کے اختتام تک 100 سے زائد برطانوی جامعات کی پاکستانی اداروں کے ساتھ شراکت داری کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اسٹیفن ڈوٹی نے سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کے لیے برطانیہ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کے مختلف سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں اور پاک برطانیہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔
برطانوی حکومت کے مطابق برطانیہ میں پاکستانی نژاد افراد کی تعداد تقریباً 17 لاکھ ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم تقریباً 5.5 ارب پاؤنڈ ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
