ہومتازہ ترینپندرہ کروڑ نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر ملک کا اثاثہ بنائیں گے،خالد مقبول صدیقی

پندرہ کروڑ نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر ملک کا اثاثہ بنائیں گے،خالد مقبول صدیقی

اسلام آباد(سب نیوز) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہم مل کر 15 کروڑ نوجوانوں کو رسمی، غیر رسمی اور فنی تعلیم کے ذریعے قیمتی اثاثہ بنائیں گے تاکہ یہ نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر ہنر مند افرادی قوت کی ضروریات پوری کر سکیں۔ پاکستان میں شرحِ خواندگی کا کم ہونا ایک بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر نئے اور مثر راستے اختیار کرنا ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے تجویز دی کہ ملک میں مساجد کے وسیع نیٹ ورک کو تعلیم کے لیے استعمال کرتے ہوئے اشراق سے ظہر تک کے وقت میں مختصر دورانیے کے تعلیمی مراکز قائم کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبوں اور مقامی حکومتوں کی ذمہ داری ہے جبکہ وفاق پالیسی سازی کا کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔ خالد مقبول صدیقی نے جائیکا، این سی ایچ ڈی، یونیسکو اور یونیسف جیسے اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف آنے والی آبادی کو بوجھ بنانے کے بجائے غیر رسمی تعلیم سے باصلاحیت بنایا جائے گا۔وفاقی وزیر تعلیم نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ 80 برسوں سے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خواندگی کے فروغ کے لیے کوششیں جاری ہیں مگر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ اس لیے ہمیں تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور تمام طبقات کو ساتھ ملا کر ایک قومی جدوجہد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیر رسمی تعلیمی نظام کے ذریعے ہم ان بچوں اور نوجوانوں کو بھی دوبارہ تعلیمی دھارے میں لا سکتے ہیں جو معاشی یا جغرافیائی دلائل کی وجہ سے اسکولوں تک نہیں پہنچ پاتے۔تقریب سے جائیکا پاکستان کے نائب کنٹری ریپریزنٹیٹو تاکایوکی سوگا وارا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جائیکا اپنے ‘آقال پروجیکٹ، ایچ ون، ٹیچ ون اور پہلے سے موجود ہنر کی سند دینے جیسے جدید طریقوں کے ذریعے اسکول سے باہر بچوں اور بالغان کو معیاری تعلیم اور روزگار سے جوڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ یونیسف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ، یونیسکو کے فاد پاشائیوف، چیئرمین این سی ایچ ڈی صادق افتخار اور وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے بھی ہر فرد تک متبادل اور معیاری تعلیم پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔صوبائی تعلیمی پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے بلوچستان کی وزیر تعلیم راحیلہ درانی نے بتایا کہ صوبے میں شرحِ خواندگی 42 فیصد سے بڑھ کر 49 فیصد ہو چکی ہے جبکہ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کم ہو کر 45 فیصد رہ گئی ہے۔ کے پی کے کے ایڈوائزر میاں سعد الدین نے بتایا کہ صوبے میں شرحِ خواندگی 51.09 فیصد ہے جہاں 34 ہزار سے زائد اسکولوں میں 5.9 ملین بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ آزاد کشمیر کے نمائندے نے 2 لاکھ 60 ہزار بچوں کو اسکولوں میں لانے کے لیے 52 ملین روپے کے فنڈز اور تعلیمی اقدامات کا ذکر کیا، جبکہ گلگت بلتستان کے نمائندے نے بتایا کہ جی بی میں 3,149 اداروں کے ساتھ شرحِ خواندگی 86 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔