فیلڈ مارشل ، آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر آج ایران کا دورہ کریں گے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ موسمِ گرما میں ایرانی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی سابقہ بات چیت کے بعد ہو رہا ہے، جس میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تنازع کے جلد از جلد خاتمے کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایرانی میڈیا اور پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
فیلڈ مارشل کے دورے میں دوطرفہ تعاون، اہم امور اور خطے کی صورتحال پر بات چیت ہو گی، اس کےعلاوہ فیلڈ مارشل کے دورے کے ایجنڈے میں ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی میں پاکستان کے کردار پر بات چیت بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے رواں سال امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اپریل میں امریکا اور اریران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان ہوا، اگرچہ اسلام آباد میں ہونے والے براہِ راست مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر منتج نہ ہو سکے تاہم سفارتی رابطے جاری رہے۔
جون میں پاکستان اور قطر کی کوششوں سے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت بھی سامنے آئی، جس میں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر بات چیت کا خاکہ پیش کیا گیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایرانی قیادت سے رابطے اور تہران کے متوقع دورے کو بھی اسی سفارتی عمل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، اب تک کی کوششوں کے باوجود تنازع کے مستقل حل اور آبنائے ہرمز میں معمول کی آمدورفت کی بحالی کے لیے اہم چیلنجز برقرار ہیں۔
