بشکیک(سب نیوز): چین کے صدر شی جن پنگ نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ترقی، سلامتی، عوامی روابط اور عالمی نظم و نسق کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنائیں، جبکہ انہوں نے ایس سی او کی آئندہ چیئرمین شپ سنبھالنے پر وزیراعظم شہباز شریف کو مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے 26ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنظیم کو اپنی تاریخی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایک صدی میں نظر نہ آنے والی تبدیلی تیزی سے رونما ہو رہی ہے، جبکہ مکالمے اور محاذ آرائی، باہمی مفاد اور زیرو سم سوچ، اور کثیرالجہتی و یکطرفہ طرزِ عمل کے درمیان مسابقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
صدر شی نے کہا کہ ایس سی او کو “شنگھائی اسپرٹ” کو بلند رکھتے ہوئے باہمی اعتماد، باہمی مفاد، مساوات، مشاورت، تہذیبی تنوع کے احترام اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر کاربند رہنا چاہیے۔
مشترکہ خوشحالی کے لیے ترقی کو ترجیح دینے پر زور
چینی صدر نے ایس سی او ممالک پر زور دیا کہ ترقی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے مشترکہ خوشحالی کے امکانات کو وسعت دی جائے۔
انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں، توانائی اور وسائل کے شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے کے ساتھ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، گرین انڈسٹری اور گرین مائننگ جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
شی جن پنگ نے کہا کہ چین ایس سی او کے ساتھ اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے نفاذ کو ترجیح دے رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چین ایس سی او ممالک کے ساتھ مل کر بین الاقوامی اے آئی ایپلی کیشن کوآپریشن سینٹر قائم کرے گا، آئندہ تین برسوں میں 100 تکنیکی تعاون کے منصوبے نافذ کرے گا اور شمسی و ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں بالترتیب ایک کروڑ کلوواٹ اضافہ کرنے کے لیے تعاون کرے گا۔
چینی صدر نے علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کو بہتر بنانے کے لیے ٹرانس کیسپیئن انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کوریڈور کی کارکردگی بہتر بنانے کی حمایت کا بھی اعلان کیا اور تیانجن میں چین-ایس سی او پورٹ اکنامک کوآپریشن سینٹر قائم کرنے کا عندیہ دیا۔
سلامتی کے شعبے میں تعاون مضبوط بنانے پر زور
شی جن پنگ نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی، سرحد پار منظم جرائم، منشیات کی اسمگلنگ اور ٹیلی کام فراڈ کے خلاف مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔
انہوں نے انفارمیشن سکیورٹی، بائیو سکیورٹی اور خلائی سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تیار ہے۔
عوامی روابط اور ثقافتی تبادلوں کا فروغ
چینی صدر نے رکن ممالک کے درمیان عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے کی تہذیبی اور ثقافتی تنوع اس کی نمایاں خصوصیت ہے۔
انہوں نے قانون ساز اداروں، سیاسی جماعتوں، تعلیمی اداروں، تھنک ٹینکس، کاروباری اداروں اور میڈیا کے درمیان روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
چین ایس سی او کے تحت جدت و پائیدار ترقی، عوامی دوستی اور دوست شہروں سے متعلق فورمز کی میزبانی کرے گا، جبکہ چین-ایس سی او بنیادی تعلیم تعاون مرکز بھی قائم کیا جائے گا۔
کثیرالجہتی تعاون اور عالمی مسائل کا سیاسی حل
صدر شی جن پنگ نے تمام ممالک کی برابری اور علاقائی معاملات کو مکالمے اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے ازبک صدر شوکت مرزیویو اور قازق صدر قاسم جومارت توکایف کی مشترکہ سلامتی، خوشحالی، منصفانہ امن اور ترقی سے متعلق تجاویز کی حمایت کا اعلان کیا۔
یوکرین، مشرق وسطیٰ اور افغانستان سمیت عالمی و علاقائی تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ چین تمام فریقوں کے ساتھ رابطے اور تعاون مضبوط بنانے اور سیاسی حل کے فروغ کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعلان
اپنے خطاب کے اختتام پر صدر شی جن پنگ نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی چیئرمین شپ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا، “چین تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان کو بھرپور حمایت فراہم کرے گا۔”
پاکستان ایس سی او کی آئندہ ایک سالہ چیئرمین شپ سنبھال رہا ہے اور 2027 میں اسلام آباد میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
