ہومتازہ ترینشنگھائی تعاون تنظیم ترقیاتی صلاحیت کی حامل نئی علاقائی تعاون تنظیم بن گئی ہے، چینی صدر

شنگھائی تعاون تنظیم ترقیاتی صلاحیت کی حامل نئی علاقائی تعاون تنظیم بن گئی ہے، چینی صدر

بیجنگ :چینی صدر شی جن پھنگ نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے چھبیسویں سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔منگل کے روز شنگھائی تعاون تنظیم کے روٹیٹنگ چیرمین ملک کرغزستان کے صدر صدیر جاپاروف نے اجلاس کی صدارت کی، جس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک یعنی بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو ، بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی، ایران کے صدر مسعود پزشکیان ، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف، روس کے صدر ولادیمیر پوٹن، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان ، ازبکستان کے صدر شوکت میرضیاوف اور شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل یر میک بائیف سمیت سربراہوں نے شرکت کی۔شی جن پھنگ نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ گروپ فوٹو بنوایا ، سربراہی اجلاس میں شرکت کی اور” شنگھائی تعاون تنظیم کو مزید اعلیٰ معیار کی ترقی کی راہ پر گامزن کریں “کے عنوان سے اہم خطاب کیا۔شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ 25 سال میں ایس سی او نے ایک غیرمعمولی سفر طے کیا ہے ۔شنگھائی تعاون تنظیم کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ یہ قدم بہ قدم دنیا کے سب سے وسیع رقبے ، سب سے زیادہ آبادی اور سب سے بڑی ترقیاتی صلاحیت کی حامل نئی علاقائی تعاون تنظیم بن گئی ہے ۔اس تنظیم کی سب سے قیمتی روحانی دولت یہ ہے کہ اس نے باہمی اعتماد، باہمی فائدے ، مساوات، مشاورت، متنوع تہذیبوں کا احترام، اور مشترکہ ترقی کی تلاش پر مبنی “شنگھائی اسپرٹ” کو متعارف کروایا اور ہمیشہ اس پر عمل کیا۔ تعاون کا سب سے اہم تجربہ یہ ہے کہ اس نے غیر وابستگی، غیر محاذ آرائی اور تیسرے فریق کو نشانہ نہ بنانے والا بقائے باہمی کا ایک درست راستہ تلاش کیا اور خطے کے ممالک کو مل کر مشترکہ گھر بنانے کی ترغیب دی۔صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ ایس سی او کو اپنی تاریخی ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے تاریخ کی سمت کی مثبت انداز میں رہنمائی کرنی چاہیئے۔اس موقع پر انہوں نے 4 نکات پر زور دیا:پہلا، ترقی کو ترجیح دی جائے اور مشترکہ خوشحالی کے لیے کوشش کی جائے۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کو بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ ترقی اور گلوبل ڈولپمنٹ انیشی ایٹو پر عمل درآمدکی ترجیحی تنظیم سمجھتا ہے۔چین اس تنظیم کے ڈیجیٹل اقتصادی فورم، زراعت کی ایکسپو اور دیگر سرگرمیوں کا انعقاد کرتا رہے گا ، رکن ممالک کے لیے بین الاقوامی مصنوعی ذہانت کے اطلاق میں تعاون کا مرکز قائم کرے گا، تھیان جن میں چین-شنگھائی تعاون تنظیم کا بندرگاہی اقتصادی تعاون مرکز قائم کرے گا، اور آئندہ 3 سالوں میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک کے ساتھ مل کر سائنسی و ٹیکنالوجی تعاون کے 100 منصوبے نافذ کرے گا۔دوسرا، سیکیورٹی کو کلیدی اہمیت دی جائے اور امن اور استحکام کا ماحول تشکیل دیا جائے۔چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر ایس سی او کو گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو کے نفاذ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بنانے کے لیے تیار ہے۔ چین ایس سی او کے “چار سیکیورٹی سینٹرز” کے جلد آغاز کی حمایت کرتا ہے تاکہ رکن ممالک کی سیکیورٹی خطرات اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔ تیسرا، عوام پر مبنی نقطہ نظر پر عمل کیا جائے اور نسل در نسل دوستی کی بنیاد کو گہرائی سے پروان چڑھائیں۔ چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کو نافذ کرنے اور ایس سی او کی ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی اور تعاون کی کمیٹی سمیت عوامی سطح پر دوستی کو فروغ دینے والے اداروں کی حمایت کے لیے تیار ہے تاکہ وہ زیادہ موثر کردار ادا کریں۔ چین، چین-ایس سی او بنیادی تعلیمی تعاون مرکز قائم کرے گا اور کنفیوشس انسٹی ٹیوٹس اور لوبان ورکشاپس جیسے منصوبوں کے ذریعے تبادلے، باہمی سیکھ اور عوامی رابطے کے پل بنانے کے لیے تیار ہے۔ چوتھا، منصفانہ اور منظم حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے مکالمے اور مشاورت پر عمل کیا جائے۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کی گلوبل گورننس انیشی ایٹو کے نفاذ میں مثالی تعاون کی حمایت کرتا ہے۔اجلاس میں “شنگھائی تعاون تنظیم کے بشکیک سربراہی اجلاس کے اعلامیے”سمیت 28 دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان 2026 تا 2027 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کا “روٹیٹنگ چیرمین ” ملک ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔