بیجنگ : جاپان میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے جاپانی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی کی جانب سے یاسوکونی شرائن کے لیے نذرانہ پیش کرنے اور کابینہ کے بعض ارکان و ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے یاسوکونی شرائن پر حاضری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جاپان کے متعلقہ اقدامات نے دوسری جنگِ عظیم کی فتح کے نتائج اور جنگ کے بعد قائم بین الاقوامی نظام کو شدید چیلنج کیا ہے۔ چین نے اس پر شدید غم و غصے اور سخت مذمت کا اظہار کرتے ہوئے جاپان سے باضابطہ احتجاج اور سخت مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ یاسوکونی شرائن جاپانی عسکریت پسندی کی جانب سے جارحانہ جنگ شروع کرنے کا روحانی آلہ اور علامت ہے، جہاں جارحیت کی جنگ کی براہِ راست ذمہ داری رکھنے والے 14 اعلیٰ درجے کے جنگی مجرموں کی یاد میں رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ جاپان کے یہ اقدامات کھلے طور پر تاریخی انصاف اور انسانی ضمیر کے مخالف سمت میں کھڑے ہیں اور دوسری جنگِ عظیم کی فتح کے نتائج اور جنگ کے بعد قائم بین الاقوامی نظام کو شدید چیلنج کرتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ رواں سال ٹوکیو ٹرائل کے آغاز کو 80 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ ٹوکیو ٹرائل نے قانون کے مطابق اعلیٰ درجے کے جنگی مجرموں کے خلاف فیصلے سنائے اور عالمی فاشزم مخالف جنگ کی فتح کے نتائج کا دفاع کیا۔ عسکریت پسندانہ جارحیت کی تاریخ کا درست ادراک اور اس پر گہرائی سے غور جاپان کی جنگ کے بعد عالمی برادری میں واپسی کی اہم شرط اور چین۔جاپان تعلقات کے قیام و فروغ کی اہم سیاسی بنیاد ہے۔چین نے جاپان پر زور دیا کہ وہ اپنی تاریخی ذمہ داریوں پر گہری نظرثانی کرے، تاریخ سے سنجیدگی سے سبق سیکھے، پرامن ترقی کے عزم کی پاسداری کرے، عملی اقدامات کے ذریعے عسکریت پسندی سے مکمل طور پر قطع تعلق کرے، دوبارہ عسکریت کے خطرناک اقدامات بند کرے اور ایک بار پھر تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا ہونے کی راہ پر نہ چلے۔
جاپانی سیاست دانوں کی یاسوکونی شرائن پر حاضری نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی نظام کو شدید چیلنج کیا ہے ، چینی سفارت خانہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
