اسلام آباد(سب نیوز) ٹیکس تنازع پر سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ دیتے ہوئے ڈیویڈنڈ انکم پر 35فیصد ٹیکس وصولی کا موقف مسترد کردیا، عدالت نے کمپنیوں کے حق میں اور ایف بی آر کے خلاف فیصلہ برقرار رکھا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے اور ایف بی آر کی تمام سول پٹیشنز خارج کردی جب کہ ایف بی آر کو اپیل کی اجازت بھی نہ مل سکی۔یہ فیصلہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سنایا اور اسے جسٹس عقیل احمد عباسی نے تحریر کیا۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ڈیویڈنڈ انکم پر صرف سیکشن 5لاگو ہوگا، سیکشن 39نہیں، 10فیصد ٹیکس ہی قانونی اور حتمی ٹیکس ذمہ داری ہے، ایف بی آر کمپنیوں سے 35فیصد کارپوریٹ ٹیکس وصول کرنا چاہتا تھا جب کہ کمپنیوں کا موقف تھا کہ ڈیویڈنڈ انکم پر صرف 10 فیصد حتمی ٹیکس بنتا ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 5اور سیکشن 39کی تشریح پر تنازعہ ہوگیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پہلے ہی ٹیکس دہندگان کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور ایف بی آر نے ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔سپریم کورٹ نے ایف بی آر کا موقف قانونی طور پر ناقابل قبول قرار دے دیا اور کہا کہ ڈیویڈنڈ ایک الگ ٹیکس بلاک ہے، اسے عام آمدن قرار نہیں دیا جا سکتا۔عدالت نے 35فیصد نارمل کارپوریٹ ٹیکس عائد کرنے کی ایف بی آر کی کوشش مسترد کردیں، سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی تمام اپیلیں میرٹ سے عاری قرار دے کر خارج کر دیں اور کہا کہ ڈیویڈنڈ پر مخصوص ٹیکس نظام ہی نافذ العمل رہے گا۔
واضح رہے کہ سعودی پاک انڈسٹریل اینڈ ایگریکلچرل انویسٹمنٹ کمپنی، فوجی فانڈیشن، فوجی فرٹیلائزر، کیپ گیس اور دیگر کمپنیوں نے ایف بی آر کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، ڈیویڈنڈ انکم پر 35فیصد ٹیکس وصولی کیلئے ایف بی آر کا موقف مسترد
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
