ہومٹاپ سٹوریمیسی کا جادو نہ چل سکا، اسپین ارجنٹائن کو شکست دے کر دوسری مرتبہ ورلڈ چمپئین بن گیا

میسی کا جادو نہ چل سکا، اسپین ارجنٹائن کو شکست دے کر دوسری مرتبہ ورلڈ چمپئین بن گیا

(پردیس سے : شاہ خالد خان، ریزیڈنٹ ایڈیٹر، یو ایس اے)

نیو جرسی — اتوار کی شام میٹ لائف سٹیڈیم کی روشنیوں تلے جب فیران ٹورس کا وہ تاریخی گول ایکسٹرا ٹائم کے 106ویں منٹ میں ارجنٹائن کے جال میں اترا تو پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ فٹ بال ایک بار پھر نئی تاریخ رقم کر چکا ہے۔ سپین نے دفاعی چیمپیئن ارجنٹائن کو 1-0 سے ہرا کر اپنا دوسرا ورلڈ کپ ٹائٹل حاصل کر لیا۔ 2010 کے بعد لا روخا ایک بار پھر عالمی تاج سر پر سجائے کھڑی ہے، جبکہ 39 سالہ لیونل میسی کا آخری ڈانس ادھورا رہ گیا۔

یہ فائنل ایک طرفہ مقابلہ تھا۔ سپین نے پورے 120 منٹ تک ارجنٹائن پر دباؤ رکھا، 20-2 شوٹس مارے، 65 فیصد پازیٹیشن حاصل کیا اور 858 پاسز کیے۔ ارجنٹائن کے پاس صرف دو شوٹس تھے جن میں سے ایک بھی ٹارگٹ پر نہ لگا۔ اینزو فرنینڈیز کی ریڈ کارڈ نے ارجنٹائن کو مزید کمزور کر دیا۔ اونائی سیمون کی دفاعی دیوار اتنی مضبوط تھی کہ ارجنٹائن کا کوئی بھی حملہ کار خطرناک پوزیشن تک نہ پہنچ سکا۔

سپین کی یہ جیت صرف ایک ٹائٹل نہیں بلکہ ایک مکمل مظاہرہ تھی۔ ٹورنامنٹ میں صرف ایک گول کھا کر چیمپیئن بننے والی وہ پہلی ٹیم بن گئی۔ اونائی سیمون نے سات کلین شیٹس کے ساتھ ورلڈ کپ کا ریکارڈ قائم کیا جبکہ پوری ٹیم نے 650 منٹ تک مخالف کو گول نہ کرنے دیا۔ روڈری نے مڈفیلڈ پر مکمل کنٹرول رکھا اور گولڈن بال جیت لیا۔ نوجوان مدافع پاؤ کُبارسی نے بیسٹ ینگ پلیئر کا اعزاز حاصل کیا۔

دوسری جانب کیلیان ایمباپے نے 10 گولز کے ساتھ گولڈن بُوٹ اپنے نام کیا اور آل ٹائم ورلڈ کپ اسکورر بن گئے۔ میسی نے آٹھ گولز کیے مگر فائنل میں خاموش رہے اور صرف سلور بال پر اکتفا کرنا پڑا۔ انگلینڈ نے تھرڈ پلیس میچ میں فرانس کو 6-4 سے ہرا کر کانسی کا تمغہ جیتا۔

یہ ورلڈ کپ 48 ٹیموں والا سب سے بڑا ٹورنامنٹ تھا۔ 104 میچز کھیلے گئے اور فٹ بال کی خوبصورتی ایک بار پھر دنیا کے سامنے آئی۔ سپین نے نہ صرف ارجنٹائن جیسے مضبوط حریف کو ہرایا بلکہ یورپی چیمپیئن شپ اور ورلڈ کپ کا ڈبل کرنے والی واحد ٹیم بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ $51 ملین پرائز منی کے ساتھ FIFA رینکنگ میں بھی نمبر ایک بن گئے۔

ارجنٹائن کے لیے یہ ہار تکلیف دہ ہے۔ تین بڑی ٹرافیوں کے بعد وہ بیک ٹو بیک ورلڈ کپ جیتنے میں ناکام رہے۔ میسی نے آخری سانس تک لڑائی لڑی مگر قسمت نے ساتھ نہ دیا۔ فائنل کے بعد آنسوؤں میں بھرے میسی کا منظر ہر ارجنٹائن دل کو چھو گیا۔

فٹ بال ایک عظیم کھیل ہے جہاں نئی نسلیں پرانی کو پیچھے چھوڑ جاتی ہیں۔ روڈری، کُبارسی، یامال اور سیمون جیسی جوان ٹیم نے ثابت کر دیا کہ جمعہ کی حکمت عملی اور یکجہتی ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ یہ جیت صرف سپین کی نہیں بلکہ فٹ بال کی نئی صبح کی ہے۔

اگلے ورلڈ کپ 2030 تک انتظار کرنا پڑے گا، مگر 2026 کی یہ یادیں دیر تک تازہ رہیں گی۔ سپین مبارکباد کے مستحق ہے اور ارجنٹائن کے شائقین کو فخر ہے کہ ان کی ٹیم نے آخری لمحے تک لڑائی لڑی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔