ہومتازہ ترینصدی کی بڑی تبدیلیوں کے درمیان چین۔روس شراکت داری: استحکام کی ایک مضبوط ضمانت

صدی کی بڑی تبدیلیوں کے درمیان چین۔روس شراکت داری: استحکام کی ایک مضبوط ضمانت

پاکستان میں تعینات چین اور روس کے سفیروں کا مشترکہ مضمون

سولہ جولائی کو چین اور روس کے درمیان معاہدۂ ہمسائیگی، دوستی اور تعاون پر دستخط کی پچیسویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے نئے دور کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد رکھی اور باہمی تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا۔

یہ معاہدہ نہ صرف دونوں ہمسایہ ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنا بلکہ اس نے مساوات، باہمی احترام، دیانت داری اور مشترکہ مفاد پر مبنی تعاون کے ایسے اصول متعارف کرائے جو آج بھی چین اور روس کے تعلقات کی بنیاد ہیں۔ گزشتہ پچیس برسوں میں یہ شراکت داری محض اچھے ہمسائیگی کے تعلقات سے آگے بڑھ کر عالمی سیاست میں بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات کی ایک منفرد مثال بن چکی ہے۔

رواں سال ایک اور اہم تاریخی موقع بھی فراہم کرتا ہے، کیونکہ 1996ء میں جاری ہونے والے اس مشترکہ اعلامیے کو بھی تیس برس مکمل ہو رہے ہیں، جس میں اکیسویں صدی کے لیے مساوی اور باہمی اعتماد پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان دونوں تاریخی دستاویزات نے چین اور روس کے تعلقات کو وہ سمت عطا کی جس پر آج دونوں ممالک پوری استقامت کے ساتھ گامزن ہیں۔

چین اور روس کے تعلقات کی سب سے نمایاں خصوصیت گہرا سیاسی اعتماد ہے۔ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان مسلسل رابطے، سربراہانِ مملکت کے باقاعدہ تبادلۂ دورے، حکومتوں اور وزارتِ خارجہ کے درمیان قریبی ہم آہنگی اور مختلف شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون نے اس اعتماد کو مزید مستحکم کیا ہے۔

اسی تسلسل میں رواں برس مئی میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے دورۂ چین کے دوران صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات انتہائی اہم ثابت ہوئے۔ ان مذاکرات میں اقتصادی تعاون، بین الاقوامی سلامتی اور عالمی امور سمیت دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر ٹرانسپورٹ، تجارت، صنعت، کسٹمز، جوہری توانائی، سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافت، کھیل، تعلیم اور نوجوانوں کے شعبوں میں چالیس معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ جامع اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔

گزشتہ برس دوسری جنگِ عظیم میں فتح کی اسیویں سالگرہ کے موقع پر بیجنگ اور ماسکو میں ہونے والی تقریبات نے بھی دنیا کو یہ پیغام دیا کہ تاریخی حقائق کا تحفظ، امن کا فروغ اور ریاستوں کی خودمختاری کا احترام دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیحات ہیں۔

عالمی نظام اس وقت ایک گہری تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں چین اور روس کی شراکت داری کسی فوجی اتحاد یا بلاک سیاست پر مبنی نہیں بلکہ مشترکہ مفادات، بین الاقوامی قانون اور عالمی استحکام کے فروغ پر استوار ہے۔ دونوں ممالک ایک ایسے کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام کے حامی ہیں جہاں تمام ریاستوں کو مساوی حیثیت حاصل ہو اور عالمی حکمرانی کا نظام زیادہ منصفانہ اور متوازن ہو۔

اس حوالے سے پاکستان کا نقطۂ نظر بھی چین اور روس کے مؤقف سے کافی حد تک ہم آہنگ ہے۔ اقوام متحدہ میں تینوں ممالک متعدد اہم عالمی معاملات پر بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور انصاف کے اصولوں کی مشترکہ حمایت کرتے ہیں، جبکہ سلامتی کونسل میں بھی ان کے درمیان قریبی مشاورت جاری رہتی ہے۔

چین اور روس کی شراکت داری اقوام متحدہ تک محدود نہیں۔ برکس، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، جی-20 اور ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) جیسے اہم عالمی فورمز پر بھی دونوں ممالک قریبی تعاون کرتے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم، جو اعتماد اور اچھے ہمسائیگی کے اصولوں پر قائم ہوئی، آج یوریشیا کی اہم ترین علاقائی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ چین اور روس اس پلیٹ فارم کے ذریعے دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کے خلاف مشترکہ اقدامات، اقتصادی تعاون اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

افغانستان کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کا مؤقف واضح ہے۔ چین اور روس افغانستان میں دیرپا امن و استحکام کے قیام کی حمایت کرتے ہیں اور ماسکو فارمیٹ، افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس، چین۔روس۔پاکستان۔ایران چار فریقی میکنزم اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے علاقائی پلیٹ فارمز کے ذریعے سیاسی حل کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ دونوں ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود اختلافات کے حل کے لیے بھی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

اقتصادی میدان میں بھی چین اور روس کی شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔ دونوں ممالک بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI)، یوریشین اکنامک یونین (EAEU) اور گریٹر یوریشین پارٹنرشپ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں تاکہ یوریشیا میں تجارت، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے نئے راستے قائم کیے جا سکیں۔

اسی تناظر میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو ملانے والی پاکستان کی منفرد جغرافیائی حیثیت اسے مستقبل کے یوریشیائی رابطہ منصوبوں میں ایک کلیدی شراکت دار بنا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین اور روس دونوں پاکستان کے ساتھ اپنے تعاون کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔

دوطرفہ تجارت بھی مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ گزشتہ تین برسوں سے چین اور روس کے درمیان تجارت کا حجم 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ زیادہ تر لین دین قومی کرنسیوں، یعنی چینی یوآن اور روسی روبل میں کیا جا رہا ہے۔ توانائی کا شعبہ اس تعاون کا بنیادی ستون بن چکا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت، جدید صنعت، اختراعات اور سائنسی تحقیق مستقبل کے نئے شعبوں کے طور پر ابھر رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے تعلقات صرف حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ عوامی روابط بھی مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔ 2024ء اور 2025ء کے چین۔روس ثقافتی سال کے دوران سینکڑوں ثقافتی تقریبات منعقد ہوئیں، جبکہ 2026ء میں کالینن گراڈ میں منعقد ہونے والے دسویں چین۔روس سمر یوتھ گیمز نے نوجوان نسل کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اسی طرح 2026ء اور 2027ء کو چین۔روس تعلیمی سال قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک مستقبل میں انسانی وسائل، اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور اختراع کو اپنی شراکت داری کا اہم ترین ستون بنانا چاہتے ہیں۔ اس وقت روس میں 72 ہزار سے زائد چینی طلبہ اور چین میں 28 ہزار سے زیادہ روسی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ مشترکہ تحقیقی مراکز، یونیورسٹی کیمپس اور جدید تحقیقاتی منصوبے بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

پچیس برس قبل کیے گئے معاہدے نے چین اور روس کے تعلقات کو جو بنیاد فراہم کی تھی، آج وہ ایک مضبوط، جامع اور دور رس اسٹریٹجک شراکت داری کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ موجودہ عالمی تبدیلیوں کے تناظر میں دونوں ممالک اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ باہمی اعتماد کو مزید مضبوط، اقتصادی تعاون کو مزید وسیع، بین الاقوامی امور میں ہم آہنگی کو مزید مؤثر اور مشترکہ ترقی کے عمل کو مزید تیز کریں گے۔ اس وسیع تر وژن میں پاکستان کو بھی ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو یوریشیا میں رابطہ کاری، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔