ہومپاکستاننعت خوانی کو ذریعہ معاش نہیں بنایا ، عشقِ رسول سمجھ کر انجام دے رہا ہوں ،ڈاکٹر اختر علی چشتی

نعت خوانی کو ذریعہ معاش نہیں بنایا ، عشقِ رسول سمجھ کر انجام دے رہا ہوں ،ڈاکٹر اختر علی چشتی

اسلام آباد (سب نیوز)معروف نعت خواں ڈاکٹر اختر علی چشتی نے کہا ہے کہ نعتِ رسول ۖ سے ان کا تعلق تقریبا 50 برس پر محیط ہے، جس کا آغاز 1977میں سکول کے زمانے سے ہوا، سکول کے ایک نعتیہ مقابلے سے متاثر ہو کر انہوں نے پہلی نعت یاد کی اور پھر مساجد، محافل اور مختلف تقریبات میں نعت خوانی کا سلسلہ شروع کیا۔

سب نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں ڈاکٹر اختر علی چشتی نے مزید کہا کہ مسلسل محنت اور شوق کے باعث انہوں نے سکولوں کے نعتیہ مقابلوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جن میں ضلع گوجرانوالہ کی سطح پر پہلی پوزیشن بھی شامل ہے۔ بعد ازاں ان کے والد نے انہیں معروف نعت خواں مرحوم محمد اعظم چشتی کی شاگردی میں دیا، جہاں انہوں نے باقاعدہ نعت خوانی کی تربیت حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد منتقل ہوئے، جہاں مختلف مذہبی و سماجی محافل میں نعت خوانی کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تقریبا تمام بڑے ٹی وی چینلز پر انہیں نعت پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، جبکہ دبئی سمیت بیرونِ ملک بھی نعت خوانی کے مواقع ملے۔ نعتِ رسول ۖ کی برکت سے انہیں متعدد بار عمرے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ڈاکٹر اختر علی چشتی نے کہا کہ وہ سلسلہ چشتیہ سے وابستہ ہیں اور اسی روحانی نسبت کو اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کی نصیحت تھی کہ ہر محفل کو زندگی کی آخری محفل سمجھ کر پوری اخلاص اور محبت سے نعت پیش کی جائے، اور وہ آج بھی اسی اصول پر عمل پیرا ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت “چشتیہ نظامیہ نعت اکیڈمی” کے ذریعے نوجوانوں کو نعت خوانی کی تربیت دے رہے ہیں، جہاں پاکستان سمیت بیرونِ ملک مقیم طلبہ کو بھی آن لائن مکمل طور پر مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نعت خوانی کو انہوں نے کبھی ذریعہ معاش نہیں بنایا بلکہ اسے عشقِ رسول ۖ کی خدمت سمجھ کر انجام دیتے رہے ہیں، جبکہ ان کی سرکاری ملازمت ہی ان کی آمدن کا ذریعہ ہے۔ ڈاکٹر اختر علی چشتی نے بتایا کہ انہیں پہلی مرتبہ 1996 میں میڈیا پر نعت پیش کرنے کا موقع ملا، جب پروڈیوسر رفعت قیوم کے پروگرام میں انہوں نے اپنی لکھی ہوئی نعت پیش کی۔ اس کے بعد انہیں پی ٹی وی سمیت مختلف نجی ٹی وی چینلز کی رمضان ٹرانسمیشنز اور خصوصی نشریات میں مسلسل نعت خوانی کا اعزاز حاصل ہوتا رہا۔

ڈاکٹر اختر علی چشتی نے کہا کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی-9 میں قائم “چشتیہ نظامیہ قرت و نعت اکیڈمی” گزشتہ تقریبا 20 برس سے بلا معاوضہ بچوں کو قرت اور نعت خوانی کی تعلیم فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے حافظِ قرآن صاحبزادے قرت کی تربیت دیتے ہیں جبکہ وہ خود نعت خوانی سکھاتے ہیں۔ اکیڈمی کے کئی طلبہ پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلز پر نعت خوانی کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آن لائن تدریس کے آغاز کے بعد دبئی، برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک سے بھی طلبہ ان سے نعت خوانی کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں نئی نسل تک منتقل کرنا چاہتے ہیں تاکہ شاگرد اپنے اساتذہ سے بھی آگے بڑھیں۔ڈاکٹر اختر علی چشتی نے بتایا کہ ان کے چاروں بیٹے نعت خواں ہیں، جبکہ ان کے صاحبزادے نے اے ٹی وی کے نعتیہ مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے ایک اور شاگرد محمد احمد الطاف نے بھی پی ٹی وی کے نعتیہ مقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کی، جسے وہ اپنی تربیت کا ثمر قرار دیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کی پہلی بڑی کامیابی ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے آل پاکستان نعتیہ مقابلے میں حاصل ہوئی، جہاں پروڈیوسر نوید احمد چوہان کے زیرِ اہتمام منعقدہ مقابلے میں انہوں نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس کے بعد جنگ گروپ کے بانی میر خلیل الرحمن کی پہلی برسی کے موقع پر ہونے والے نعتیہ مقابلے میں بھی وہ کامیاب رہے، جہاں سید منظور شاہ، بشیر حسین ناظم اور منصور عابد سمیت ممتاز شخصیات نے ان کی آواز اور اندازِ نعت خوانی کو سراہا۔انہوں نے بتایا کہ راولپنڈی کے اپارہ کمیونٹی سینٹر میں منعقد ہونے والے ماہانہ نعتیہ مقابلوں میں وہ مسلسل چھ برس تک پہلی پوزیشن حاصل کرتے رہے۔ چھٹے سال انہوں نے اعلان کیا کہ اب بطور مقابل شرکت نہیں کریں گے بلکہ جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے۔ڈاکٹر اختر علی چشتی نے کہا کہ اس کے بعد انہیں مختلف نعتیہ مقابلوں میں بطور جج مدعو کیا جاتا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اپارہ کمیونٹی سینٹر، مختلف ٹی وی چینلز اور دیگر اداروں کے نعتیہ مقابلوں میں فیصل کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں، جبکہ گزشتہ چار برس سے ایک جامعہ کے نعتیہ مقابلوں میں بھی مسلسل بطور جج خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔