بیروت (آئی پی ایس )امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدے پر دستخط کے باوجود اسرائیل نے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کو ملکی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملے کیے۔ 24 گھنٹوں کے دوران ان حملوں میں 5 سے زائد شہدی جاں بحق ہوگئے۔اسرائیلی حملوں میں لبنان کے متعدد شہری زخمی بھی ہوئے جب کہ انفرا اسٹریکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ قبل ازیں انہی حملوں میں لبنانی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ہوچکے ہیں جس پر لبنان نے شدید احتجاج کیا تھا۔یہ حملے اس وقت ہوئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے میں لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے پر زور دیا گیا ہے اور آج ہی امریکی صدر، ایرانی ہم منصب اور پاکستانی وزیراعظم نے دستخط کردیئے ہیں۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم کے قریبی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ نیتن یاہو اس وقت بھی امریکا کے ساتھ جنوبی لبنان میں اپنی فوجی تعیناتی برقرار رکھنے کے معاملے پر مشاورت کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ سے گفتگو میں یہ موقف اپنایا ہے کہ سرحدی علاقوں میں قائم “بفر زون” اس کی قومی سلامتی کا اہم حصہ ہیں۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو یہ امریکا۔ایران مفاہمتی معاہدے کی روح کے خلاف ہوگا اور اس سے آئندہ مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط کے بعد کہا تھا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کرے تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے جبکہ معاہدے پر عملدرآمد کے لیے سوئٹزرلینڈ میں مزید مذاکرات متوقع ہیں۔
اسرائیل ہٹ دھرمی پر قائم، امریکا ایران معاہدے پر دستخط کے باوجود لبنان پر حملے جاری، 5شہری شہید
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

