Thursday, June 4, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومبریکنگ نیوزہائیکورٹس سپریم کورٹ یا آئینی عدالت کے ماتحت نہیں، وفاقی آئینی عدالت

ہائیکورٹس سپریم کورٹ یا آئینی عدالت کے ماتحت نہیں، وفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد (آئی پی ایس )وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ملک کی ہائیکورٹس نہ تو سپریم کورٹ کے ماتحت ہیں اور نہ ہی وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت، بلکہ ہر ہائیکورٹ ایک آزاد اور خودمختار آئینی عدالت کی حیثیت رکھتی ہے۔جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ ملک میں اس وقت 5 خودمختار ہائیکورٹس موجود ہیں اور ہر ہائیکورٹ اپنے آئینی اختیارات، روسٹر، کیس مینجمنٹ اور مقدمات کی سماعت کے نظام میں آزاد حیثیت رکھتی ہے۔

یہ فیصلہ وفاقی آئینی عدالت نے گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) بنام ماسٹرز ٹائلز کیس میں جاری کیا۔عدالت نے یہ ریمارکس اس درخواست پر دیے جس میں وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو ایک مقدمہ جلد نمٹانے کی ہدایت جاری کی جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اعلی عدالتوں سے ہائیکورٹس کو مقدمات کے فوری فیصلوں سے متعلق ہدایات جاری کرنے کی درخواستیں اکثر دائر کی جاتی ہیں، تاہم ایسے معاملات میں انتہائی احتیاط اور مناسب الفاظ کا استعمال ضروری ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ ضلعی عدالتیں اور آرٹیکل 203 کے تحت قائم دیگر عدالتیں ہائیکورٹس کے ماتحت ہیں، تاہم ہائیکورٹس خود کسی بھی اعلی عدالت کی ماتحت نہیں۔عدالت کے مطابق ہائیکورٹ کے فیصلے اگرچہ سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیے جا سکتے ہیں، لیکن اپیل کا حق کسی عدالت کو دوسری عدالت کے ماتحت نہیں بناتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ ہائیکورٹس کے پاس مقدمات کی فکسیشن، روسٹر اور کیس مینجمنٹ سے متعلق اپنی پالیسیاں موجود ہوتی ہیں اور کوئی بھی ایسا حکم جو ان پالیسیوں پر حاوی ہو،

ہائیکورٹس کی عدالتی اور انتظامی آزادی میں مداخلت کے مترادف ہوگا۔عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض مقدمات اپنی نوعیت کے اعتبار سے فوری سماعت کے متقاضی ہوتے ہیں، تاہم ایسے مواقع پر بھی ہدایات کے بجائے مناسب اور محتاط الفاظ کا استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ ہائیکورٹ کی آزادی متاثر نہ ہو۔عدالت کے مطابق اس نوعیت کی ہدایات عموما عدالتی نہیں بلکہ انتظامی نوعیت کی ہوتی ہیں۔وفاقی آئینی عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ متعلقہ رٹ پٹیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا تصور کی جائے گی۔ساتھ ہی یہ توقع ظاہر کی گئی کہ مقدمے کی فوری نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ اسے جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کرے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔