کوئٹہ (آئی پی ایس )قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کے خلاف چمن میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران مبینہ متنازع بیانات دینے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مقدمہ تحصیل گلستان کے رہائشی ولی خان غیبیزئی کی درخواست پر تھانہ چمن میں درج کیا گیا، جس میں مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے 29 مئی کو چمن میں منعقدہ ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حکومت، سیکیورٹی اداروں اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر سخت تنقید کی۔
پولیس کے مطابق اپوزیشن لیڈر نے اپنی تقریر میں دہشتگردی، ٹرکوں کو نذر آتش کیے جانے کے واقعات اور امن کے قیام میں ناکامی کا ذمہ دار حکومت اور بعض ریاستی اداروں کو قرار دیا۔عید کے تیسرے روز چمن میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہاکہ ہر گھر سے ایک ایک فرد دو، ہم اپنا قومی لشکر بنائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ لشکر کسی کے خلاف نہیں بلکہ اپنے حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہوگا۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنی شناخت پر فخر کریں اور اپنے آئینی و جمہوری حقوق کے لیے متحد رہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے محمود خان اچکزئی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چمن کے جلسے میں ایسی باتیں کی گئیں جن سے غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ تمام مسائل کا حل قانون سازی، آئینی جدوجہد اور جمہوری عمل میں مضمر ہے۔میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد ہوتی ہے اور کسی بھی متبادل انتظام کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ بلوچ اور پشتون عوام صدیوں سے بھائی چارے کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی مخلوط حکومت صوبے کے تمام علاقوں میں یکساں ترقیاتی منصوبوں پر کام کررہی ہے اور وزیراعلی بلوچستان ہمیشہ تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) نے بھی محمود خان اچکزئی کے بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
پارٹی ترجمان نے کہاکہ بلوچ اور پشتون دو برادر اقوام ہیں جنہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ترجمان کے مطابق جب بھی بعض سیاسی قوتوں کو سیاسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو وہ قومیتوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچ اور پشتون عوام باشعور ہیں اور نفرت یا تقسیم کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔بی اے پی کے ترجمان نے مزید کہاکہ بلوچستان کے عوام امن، ترقی اور استحکام چاہتے ہیں اور بھائی چارے کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی سوچ کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

