اسلام آباد(آئی پی ایس ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ملک ابرار احمد کی صدارت میں آج پارلیمنٹ ہاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی نے وفاقی حکومت کی جائیداد کے انتظام کے لیے ایک اتھارٹی کے قیام کی سفارش کی۔ کمیٹی نے حکومتی املاک کے شفاف اور دانشمندانہ استعمال پر زور دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔کمیٹی نے تفصیلی بحث کے بعد متفقہ طور پر مجوزہ قانون کو بغیر کسی ترمیم کے اسمبلی سے منظور کروانے کی سفارش کی۔
بحث کے دوران چیئرمین کمیٹی ملک ابرار احمد نے کہا کہ ان کے ذاتی علم میں ہے کہ کئی سرکاری املاک قبضہ مافیہ کے قبضہ میں ہیں۔ انہوں نے ریلوے کی زمین پر قبضے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بطور ممبر انہوں نے ریلوے سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا جس پر کمیٹی کی ہدایت پر قابضین کو بے دخل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں کی توسیع اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کی وجہ سے ان زمینوں کی قدر میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوا ہے، تاہم زیادہ تر سرکاری ادارے ان جائیدادوں کا بہتر انتظام نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے اتھارٹی کے قیام کی حمایت کی۔
سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت ملک بھر میں وسیع رقبے پر مشتمل تجارتی، شہری اور دیہی غیر منقولہ جائیداد کی مالک ہے جس میں زمین اور اس پر تعمیر شدہ عمارتیں شامل ہیں۔ یہ جائیدادیں وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور ان کے زیرِ انتظام تنظیموں کی ملکیت، استعمال اور انتظام میں ہیں۔ تاہم حکومتی ہدایات کے باوجود زیادہ تر سرکاری املاک معاشی طور پر منافع بخش طریقے سے استعمال نہیں ہو رہیں اور وہ تجاوزات کا شکار بھی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان جائیدادوں کو تجاوزات، غیر قانونی قبضے وغیرہ جیسے متعدد مسائل درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کئی بار ان میں سے کچھ جائیدادوں کو زیادہ سے زیادہ معاشی منفعت کے لیے استعمال کرنے کی کوشیں کی گئیں، لیکن وہ ناکام رہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جائیداد، بالخصوص زمین، کا انتظام ایک مخصوص مہارت کا تقاضا کرتا ہے اور موجودہ سرکاری اداروں میں سے کسی کے پاس بھی یہ خصوصی استعداد موجود نہیں کہ وہ ان جائیدادوں سے معیشت کے لیے قیمتی منفعت پیدا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام ایک مخصوص پیشہ ورانہ ایجنسی/تنظیم کے ذریعے انجام دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ تجویز ہے کہ وفاقی حکومت کی منظوری سے “وفاقی حکومت جائیداد انتظامی اتھارٹی” کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کیا جائے گا جو وفاقی حکومت کی جائیدادوں کو سنبھالے اور لیز پر دے۔
کمیٹی نے “آرکائیول میٹریل (تحفظ اور برآمد پر کنٹرول) (ترمیمی) بل 2026” پر بحث کی اور اس کی دفعہ 2(اے) میں “متعلقہ ڈویژن کے سیکرٹری” کے الفاظ کی جگہ “وزیرِ اعظم” کے الفاظ شامل کرنے کی ترمیم کے ساتھ سفارش کی۔ کمیٹی کی رائے تھی کہ آرکائیول مواد کے تحفظ کے لیے اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی طے کرنے والی مشاورتی کمیٹی کے قیام کا اختیار وزیرِ اعظم کے پاس ہونا چاہیے۔
کمیٹی نے متفقہ طور پر “ترک شدہ جائیدادیں (انتظام) (ترمیمی) بل 2026” اور “آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026” کو بغیر کسی ترمیم کے اسمبلی سے منظور کروانے کی سفارش کی۔
سیکریٹری کابینہ ڈویژن نے کمیٹی کو مذکورہ بالا بلوں کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی قوانین میں یہ ترامیم حکومت کو بہتر بنانے، انتظامی کارکردگی بہتر بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے لائی گئی ہیں کہ وفاقی کابینہ قومی پالیسی اور اسٹریٹجک اہمیت کے معاملات پر توجہ دے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی کابینہ کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن نے متعلقہ قوانین کا جامع جائزہ لیا ہے اور اختیارات کو مناسب حکام کو منتقل کرنے کے لیے یہ ترمیمی بل تیار کیا ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو یہ بھی مطلع کیا کہ وفاقی کابینہ نے یہ فیصلہ معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کے “مصطفی امپیکس بمقابلہ حکومت پاکستان” کیس کے فیصلے کے نتیجے میں کیا ہے۔ اجلاس میں ارکانِ قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب، فرح ناز اکبر، ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی، رعنا انصار، شاہدہ بیگم، احسان الحق باجوہ بذریعہ زوم، سیکریٹری کابینہ ڈویژن اور متعلقہ محکموں کے دیگر افسران نے شرکت کی۔

