بیجنگ :موسم گرما کے اوائل میں بیجنگ ایک بار پھر اہم سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ 13 سے 15 مئی تک امریکی صدر نے نو برس بعد دوبارہ چین کا دورہ کیا، جبکہ اس کے فوراً بعد روسی صدر ولادیمیر پوٹن اپنے پچیسویں دورۂ چین پر بیجنگ پہنچے۔ اسی دوران پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ نے بھی مئی کے آخری عشرے میں چین کے سرکاری دورے شروع کیے۔ یہ مسلسل سفارتی روابط عالمی سطح پر چین کی بڑھتی ہوئی کشش اور اس کے فعال کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔رواں سال کے آغاز سے ہی مغربی ترقی یافتہ ممالک سے لے کر ہمسایہ ممالک تک، یورپ، افریقہ سے لے کر لاطینی امریکی شراکت داروں تک ، ان ممالک کے رہنما مسلسل چین کا رخ کر رہے ہیں اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
خاص طور پر یہ بات غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ صرف چھ ماہ کے اندر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے چار ممالک کے رہنما چین کا دورہ کر چکے ہیں، جو عوامی جمہوریہ چین کی سفارتی تاریخ میں ایک انتہائی منفرد واقعہ ہے۔اس صورتحال کے پس منظر میں بین الاقوامی نظام میں چین کے کردار کی گہری تبدیلی کارفرما ہے۔ چین اب صرف عالمی امور میں شریک ایک فعال قوت نہیں رہا بلکہ ایک ایسی اہم طاقت بن چکا ہے جو دنیا کے لیے کشش اور اسٹریٹجک توازن دونوں کا مرکز بن رہی ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان پیچیدہ اور غیر یقینی تعلقات کے ماحول میں چین نے متوازن اور مستحکم سفارت کاری کے ذریعے دنیا کو اہم استحکام فراہم کیا ہے۔ وسیع تر ترقی پذیر دنیا کے لیے چین ترقی کو ترجیح دینے، باہمی احترام اور مشترکہ کامیابی کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے “گلوبل ساؤتھ” ممالک کے لیے آزادانہ ترقی اور متنوع سفارتی تعلقات کا اہم شراکت دار بن چکا ہے۔
ڈی کپلنگ اور تحفظ پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے مقابلے میں چین مسلسل کھلے پن کی پالیسی پر قائم ہے اور عالمی صنعتی و سپلائی چین کے استحکام اور لچک کے تحفظ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ 53 افریقی ممالک کے لیے مکمل زیرو ٹیرف کے نفاذ سے لے کر بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی اعلیٰ معیار کی مشترکہ تعمیر تک، اور سی پی ٹی پی پی اور ڈی ای پی اے جیسے اعلیٰ معیار کے اقتصادی و تجارتی معاہدوں میں شمولیت کی کوششوں سے لے کر ترقی پذیر ممالک کے مطالبات کو عالمی حکمرانی میں ترجیح دینے تک، چین اپنے ترقیاتی مواقع کو دنیا کے مشترکہ مواقع میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔سلامتی کے شعبے میں بھی چین نے “مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار” سلامتی کے تصور کی حمایت کی اور اسے عملی شکل دی ہے۔ چاہے یوکرین بحران کے سیاسی حل سے متعلق پوزیشن پیپر جاری کرنا ہو، شٹل ڈپلومیسی کرنا ہو، سعودی عرب اور ایران کے درمیان تاریخی مفاہمت کو فروغ دینا ہو یا مشرقِ وسطیٰ کے امن سے متعلق چار نکاتی تجویز پیش کرنا ہو، چین نے ہمیشہ مذاکرات کا سہولت کار اور امن کا معمار کا کردار ادا کیا ہے، اور علاقائی مسائل کے حل کے لیے چینی حل فراہم کیے ہیں۔
اختلافات میں کمی لانے والا “رابطہ کار”، ترقی اور کھلے پن کا “مستحکم ستون”، اور پھر علاقائی سلامتی کا “محافظ” ، عالمی سطح پر چین کا کردار مزید کثیر الجہتی ہوتا جا رہا ہے، جبکہ اسے وسیع پیمانے پر پذیرائی بھی مل رہی ہے۔ متعدد بین الاقوامی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں چین کے مثبت تاثر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عوامی سطح پر چین کے بارے میں مثبت رائے مستحکم ہو رہی ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے ایک سروے کے مطابق امریکی شہریوں میں چین کے بارے میں مثبت تاثر میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ نوجوان نسل کے خیالات نسبتاً زیادہ مثبت ہیں۔ اسی دوران بیرون ملک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر”چینی طرز زندگی” اور”چینی طرز کا احساسِ تحفظ” جیسے موضوعات مقبول ہو رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا چین کو زیادہ معروضی اور حقیقت پسندانہ انداز میں دوبارہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ تمام حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ چین کا اختیار کردہ کثیرالجہتی راستہ اور انسانیت کی مشترکہ ترقی کا تصور نہ صرف دنیا اور عہدِ حاضر کے اہم سوالات کا جواب فراہم کرتا ہے بلکہ مؤثر انداز میں دنیا کے عوام کی بہتر زندگی کی مشترکہ خواہشات کو بھی پورا کرنے کی امید دلاتا ہے۔

