کابل: (آئی پی ایس) افغان سفیر کی یورپ میں افغان قونصل خانوں پر طالبان رجیم کے غیر قانونی کنٹرول کی شدید مخالفت کرتا ہے، تاہم یورپ میں افغان قونصل خانوں پر طالبان رجیم کے کنٹرول کی کوششیں سکیورٹی کیلئے خطرہ قرار دے دی گئی۔
برطانوی جریدے ایٹلس پریس کے مطابق سوئٹرزلینڈ میں تعینات افغان سفیر نے ایکس پر پیغام میں کہا کہ جرمنی سمیت یورپ میں افغان قونصل خانوں پر طالبان کا کنٹرول دراصل ایک خفیہ چال ہے۔
افغان سفیر ناصر احمد اندیشہ نے کہا ہے کہ پاسپورٹ منسوخی اور قونصلر خدمات روکنے کی دھمکیوں سے طالبان نے بعض یورپی حکومتوں کو پھنسانے کی کوشش کی، طالبان رجیم کے نمائندوں کی یورپی دارالحکومتوں میں تعیناتی انتہا پسندگروہ کو آپریشنل بیس فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
طالبان رجیم نے قونصلر ڈیٹا بیس پر کنٹرول حاصل کرلیا تو انہیں افغان شہریوں کے متعلق حساس معلومات تک رسائی مل جائے گی، طالبان رجیم افغان شہریوں کی حساس معلومات کو جبر اور بلیک میلنگ کے ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یورپ میں افغان قونصل خانوں پر طالبان کا کنٹرول سفارتی تبدیلی نہیں بلکہ خود یورپی ممالک کی داخلی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے، سفارت کاری کی آڑ میں طالبان رجیم کی دھوکہ دہی کونہ روکا گیا تو یورپ مستقبل میں انتہا پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا۔

