Thursday, May 21, 2026
ہوماسلام آباداسلام آباد چیمبر کا حکومت سے کاروبار دوست اور برآمدات پر مرکوز وفاقی بجٹ کا مطالبہ

اسلام آباد چیمبر کا حکومت سے کاروبار دوست اور برآمدات پر مرکوز وفاقی بجٹ کا مطالبہ

اسلام آباد(سب نیوز)اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ کاروبار دوست، برآمدات پر مبنی اور سرمایہ کاری کے فروغ کا حامل ہوگا، جو نہ صرف تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرے گا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور ملک میں پائیدار معاشی ترقی کی راہ ہموار کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ا ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز چیمبر ہاوس میں کاروباری شخصیات کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

سردار طاہر محمود نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے، لہذا آنے والے بجٹ میں کاروباری اعتماد کی بحالی، صنعتکاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کو عملی اور ترقی دوست پالیسیوں کے ذریعے سہولیات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ معاشی بحالی اور قومی ترقی میں اپنا مثر کردار ادا کر سکے۔آئی سی سی آئی کے صدر نے زور دیا کہ ٹیکس نظام کو آسان اور معقول بنایا جائے تاکہ کاروباری طبقے پر بوجھ کم ہو اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی حوصلہ افزائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھاری ٹیکسوں اور پیچیدہ طریقہ کار کے باعث سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری برادری کو آزادانہ اور خودمختار انداز میں کام کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ پاکستان خطے میں تجارت اور کاروبار کا ایک فعال مرکز بن سکے۔

سردار طاہر محمود نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے تعمیرات اور ہاسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے متعلقہ اداروں کو عملی حکمت عملی مرتب کرنے اور اس پر مثر عملدرآمد کی ہدایت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت تقریبا دو کروڑ رہائشی یونٹس کی کمی کا سامنا ہے، لہذا حکومت کو ہاسنگ اور تعمیراتی شعبوں میں سرمایہ کاروں، بلڈرز اور ڈویلپرز کی سہولت کے لیے جامع ون ونڈو منظوری نظام متعارف کرانا چاہیے۔انہوں نے سپر ٹیکس کے فوری خاتمے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکس نے پہلے ہی بڑھتی ہوئی لاگت اور معاشی غیر یقینی صورتحال سے دوچار صنعتوں اور کاروباروں پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسوں میں کمی سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور قومی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے سردار طاہر محمود نے کہا کہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے تاکہ کپیسٹی چارجز کے بھاری بوجھ کا خاتمہ ہو اور صنعتوں و صارفین کو سستی بجلی فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی بلند لاگت نے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں مسابقت کو شدید متاثر کیا ہے جو صنعتی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر، جو اسٹیل، سیمنٹ، ٹائلز، پینٹ، الیکٹریکل سامان اور تعمیراتی میٹریل سمیت تقریبا 60 سے 70 ذیلی صنعتوں کو سہارا دیتا ہے، قومی معیشت میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں کے لیے مراعاتی پالیسیوں سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ، محصولات میں بہتری اور بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔آخر میں سردار طاہر محمود نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت ایک متوازن، حقیقت پسندانہ اور ترقی پسند بجٹ پیش کرے گی جو سرمایہ کاری کے فروغ، برآمد کنندگان کی معاونت، کاروبار کی لاگت میں کمی اور ملک میں طویل المدتی معاشی استحکام کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔