Tuesday, May 19, 2026
ہومتازہ ترینیوکرین میں جبری فوجی بھرتی، بدعنوانی اور انسانی حقوق پر روسی مؤقف سامنے آگیا

یوکرین میں جبری فوجی بھرتی، بدعنوانی اور انسانی حقوق پر روسی مؤقف سامنے آگیا

اسلام آباد : پاکستان میں روسی فیڈریشن کے سفیر البرٹ خوریف نے اپنی روایتی بین الاقوامی امور سے متعلق بریفنگ سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے عالمی سطح پر جاری تنازعات، دوسری عالمی جنگ کی تاریخی یادداشت، یوکرین بحران، انسانی ہمدردی، علاقائی سلامتی اور روس کے مؤقف پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔

اپنے خطاب کے آغاز میں انہوں نے 9 مئی کو منائی جانے والی “عظیم محبِ وطن جنگ میں فتح” کی 81ویں سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے سوویت عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ روس کے لیے یومِ فتح ایک نہایت اہم اور مقدس قومی دن ہے۔

انہوں نے بعض ممالک میں دوسری عالمی جنگ کی یادگاروں اور تاریخی ورثے کے ساتھ مبینہ رویے پر تشویش کا اظہار کیا اور نازی ازم اور فاشزم کی بحالی یا اس کی تعریف کے خلاف روس کی اقوام متحدہ میں پیش کردہ قراردادوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے اس بات پر پاکستان سمیت مختلف ممالک کی حمایت کو سراہا۔

سفیر نے یوکرین تنازعے کے حوالے سے روس کی جانب سے جنگ بندی اور انسانی ہمدردی پر مبنی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کیف کی جانب سے ان کوششوں کو مؤثر طور پر جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے روسی وزارتِ دفاع کے حوالے سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کا بھی ذکر کیا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے یوکرین میں جاری سیاسی و سماجی صورتحال، جبری فوجی بھرتی، بدعنوانی کے الزامات، انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور مغربی ممالک کی فوجی و مالی معاونت پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ روس کے مطابق یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے۔

انہوں نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور علاقائی ممالک کو متاثر کرنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہیں خطے کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے یوکرین میں جرائم، اسمگلنگ اور بدعنوانی سے متعلق رپورٹس کا حوالہ بھی دیا۔

سفیر نے یورپی ممالک اور مغربی اداروں کی جانب سے روس کے خلاف قانونی و سیاسی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مختلف بین الاقوامی فریم ورکس کے کردار پر سوالات اٹھائے۔

انہوں نے بوچا واقعے سمیت بعض بین الاقوامی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے روسی مؤقف دہرایا اور کہا کہ ان واقعات کے بارے میں روس کے مطابق حقائق کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا۔

انہوں نے یوکرینی بچوں سے متعلق الزامات پر بھی بات کرتے ہوئے روس کے اقدامات کو انسانی ہمدردی پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ متعلقہ معاملات ثالثی کے ذریعے حل کیے جا رہے ہیں۔

اختتامی حصے میں انہوں نے اوڈیسا کے واقعات، کریمیا کی صورتحال، تاریخی و ثقافتی ورثے اور بین الاقوامی قانونی معاملات کا ذکر کیا اور کہا کہ روس اپنے مؤقف کے مطابق تاریخی حقائق اور علاقائی خودمختاری کے اصولوں پر قائم ہے۔
سفیر نے آخر میں شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ روس بین الاقوامی سطح پر مکالمے اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔