روزنامہ سب نیوز اسلام آباد سے گفتگو کرتے ہوئے یونین کونسل تبی سر کے مسلم لیگ (ن) کے کارکن، امانت اللہ خان شادی خیل کے قریبی عزیز اور دیرینہ ساتھی نے گندم اور آٹے کی ترسیل پر عائد پابندیوں کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضلع میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل میں واقع یونین کونسل تبی سر اور ٹولہ بانگی خیل، جو پنجاب کا حصہ ہیں، اس وقت چغلان چیک پوسٹ کے باعث ایک اہم توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق چیک پوسٹ سے آگے ان علاقوں میں گندم اور آٹے کی سپلائی مکمل یا جزوی طور پر بند ہے، جس کے باعث تقریباً 40 سے 50 ہزار نفوس پر مشتمل آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعی ان علاقوں میں آٹے اور گندم کی ترسیل مکمل بند ہے تو پھر اتنی بڑی آبادی اپنی بنیادی غذائی ضروریات کیسے پوری کر رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے گندم پر پابندی شاید کسی مجبوری کے تحت ہو، مگر وہ غریب اور محنت کش لوگ جو سال بھر کی ضرورت کے لیے چند بوریاں گندم خرید کر اپنے گھروں کو لے جاتے ہیں، انہیں سمگلر قرار دینا کہاں کا انصاف ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ بخوبی جانتی ہے کہ عام مزدور اور دیہاڑی دار لوگ سمگلنگ میں ملوث نہیں بلکہ صرف اپنے بچوں کے لیے رزق لے جا رہے ہوتے ہیں۔ اگر سمگلنگ واقعی ہو رہی ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اصل سمگلر کس کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں اور کس کے سائے تلے یہ سب کچھ جاری ہے؟
انہوں نے ضلعی انتظامیہ خصوصاً ڈی سی میانوالی سے مطالبہ کیا کہ اگر قانون اور آئین کے تحت پرمٹ جاری کرنے کا اختیار موجود ہے تو اس عمل کو مکمل شفاف، آسان اور غیر سیاسی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 80 کلومیٹر دور سے آنے والا غریب شہری کم از کم ایک گھنٹے کے اندر پرمٹ حاصل کر سکے، نہ کہ اسے سیاسی سفارشات اور غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے۔
انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما امانت اللہ خان شادی خیل سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین عوامی مسئلے کو اجاگر کرنے اور اس کے مستقل حل کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں، کیونکہ علاقے کے عوام نے ہمیشہ ان پر اعتماد اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔
