لندن (آئی پی ایس )برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جو قومی سلامتی کے مشیر بھی ہیں، اہم عالمی معاملات خصوصا ایران جنگ سے پیدا ہونے والے بحران میں غیر معمولی طور پر پس منظر میں نظر آ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اپنے داماد جیراڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو پاکستان بھیج رہے ہیں جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس بھی گزشتہ دنوں اسلام آباد میں بات چیت کی قیادت کرتے رہے تاہم اس تمام عمل میں مارکو روبیو کی عدم موجودگی نمایاں رہی۔
ماہرین کے مطابق روبیو جان بوجھ کر ایران جیسے پیچیدہ اور غیر مقبول معاملے سے فاصلہ رکھ رہے ہیں تاکہ ممکنہ ناکامی کا بوجھ ان پر نہ آئے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ مستقبل میں صدارتی امیدوار بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ روبیو کو ٹرمپ کی انتظامیہ میں وفادار ساتھی سمجھا جاتا ہے لیکن اہم خارجہ پالیسی فیصلوں میں ان کا کردار محدود دکھائی دیتا ہے، ان کا زیادہ فوکس لاطینی امریکا پر رہا ہے جبکہ ایران جیسے بڑے بحران میں دیگر شخصیات کو آگے رکھا جا رہا ہے۔
ہینری کسنجر کے بعد روبیو واحد شخصیت ہیں جو بیک وقت دو اہم عہدوں پر فائز ہیں تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے اختیارات اور اثر و رسوخ اس تاریخی مثال کے مقابلے میں کم دکھائی دیتے ہیں۔دوسری جانب وائٹ ہاس نے ان تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روبیو ہر اہم قومی سلامتی کے معاملے میں شامل ہوتے ہیں لیکن فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عملی طور پر ٹرمپ انتظامیہ میں خارجہ پالیسی کا انداز بدل چکا ہے جہاں روایتی سفارت کاری کے بجائے مخصوص ایلچیوں اور محدود حلقے پر زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔
