لاہور(سب نیوز) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے لاہور میں برقی روڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے قائد محمد نواز شریف، وزیراعظم محمد شہباز شریف، وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور سینئر وزیر محترمہ مریم اورنگزیب کے شکر گزار ہیں جن کی قیادت میں ان کے حلقے میں ترقیاتی منصوبوں کا وسیع جال بچھایا گیا اور عوامی مسائل کے حل میں نمایاں پیش رفت ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اس احساس کے ساتھ کام کرتے رہے کہ اگر اپنے حلقے میں بہتری نہ لا سکے تو خود کو جوابدہ سمجھیں گے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ 2015-16 میں این اے-120 ترقی کی بلندیوں پر تھا، جہاں بجلی، سڑکوں، سیوریج اور دیگر بنیادی سہولیات بہترین انداز میں فراہم کی گئیں، تاہم بعد ازاں عدم توجہ کے باعث نہ صرف ان کا حلقہ بلکہ ملحقہ علاقے بھی متاثر ہوئے۔ اس کے برعکس موجودہ حکومت نے ترقی کے لیے تاریخ کے سب سے زیادہ فنڈز فراہم کیے ہیں اور اس وقت ان کے حلقے میں تقریباً 38 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں آج ترقی کی رفتار قابلِ مثال ہے اور دیہات تک میں صفائی، سڑکوں اور بنیادی سہولیات میں نمایاں بہتری نظر آ رہی ہے۔ اگر نیت درست ہو، خلوص کے ساتھ محنت کی جائے اور اللّٰہ تعالٰی پر بھروسہ رکھا جائے تو کامیابی خود راستے پیدا کرتی ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ 2022 پاکستان کی سیاسی اور معاشی تاریخ کا اہم موڑ تھا، جب نئی ٹیم تشکیل دی گئی اور معیشت کو سنبھالنے کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت میں شمولیت ایک مشکل فیصلہ تھا مگر مسلم لیگ (ن) نے تمام چیلنجز قبول کیے۔ اسی دور میں نئے سپہ سالار کا انتخاب ہوا جو ملک کے لیے ایک درست اور اہم فیصلہ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور عسکری قیادت نے پاکستان کو استحکام، طاقت اور وقار عطا کیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ بھارت کی جارحانہ سوچ کے مقابلے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واضح مؤقف اپنایا کہ پاکستان ہر صورت منہ توڑ جواب دے گا۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نے ڈائس پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ کیا میں بھارت پر حملہ کر دوں جبکہ پاکستان کے پاس تیل تک نہیں۔ آج وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب وہ تیل اور پیٹرول کہاں سے آ گیا، جو اس وقت پاکستان کی کمزوری کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلوں کے لیے ہمت، عزم اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، جو موجودہ قیادت نے ثابت کیا۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ افواجِ پاکستان، سیاسی قیادت، صدر مملکت اور تمام اداروں نے یکجہتی کے ساتھ فیصلہ کیا کہ پاکستان کی عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اللّٰہ تعالٰی نے پاکستان کو ایسی کامیابی عطا کی کہ بھارت کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور پاکستان ترقی و استحکام کی راہ پر گامزن ہوا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی میں پاکستان نے نہ صرف بھارت کو مؤثر جواب دیا بلکہ سفارتی سطح پر بھی واضح برتری حاصل کی، جس کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیا گیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے، جن میں پنجاب سے پولیس، رینجرز اور دیگر اداروں کو طلب کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔ خدشہ تھا کہ خطے میں موجود عناصر صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم سخت سیکیورٹی اقدامات کے باعث مذاکرات محفوظ رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات دنیا کی تاریخ میں تیسری عالمی جنگ کو روکنے کے مترادف تھے، جہاں ایران اور امریکہ کو ایک میز پر لانے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس دوران 17 ممالک نے مذاکرات میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی جبکہ متعدد ممالک نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ 47 سال بعد دونوں ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، ڈی جی آئی ایس آئی و نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کی ٹیم ورک کا بنیادی کردار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ میں 152ویں آئی پی یو اسمبلی کے موقع پر پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ جرمنی، فرانس، اٹلی، یو اے ای، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر ممالک کے پارلیمانی نمائندوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ایران، امریکہ اور خطے کی کشیدہ صورتحال میں پاکستان نے اصولی اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ وہ پاکستان کے سیاسی اور نظریاتی موقف کا حصہ نہیں اور پاکستان ہمیشہ اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہا ہے۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت اپنی سیاست کو صرف اپنے لیڈر کے گرد رکھتی رکھتی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ ریاست، پاکستان اور قومی مفاد کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیڈر کو جو سہولیات ملی ہیں وہ ماضی میں کسی کو بھی نہیں ملیں، جبکہ ہم نے ہمیشہ اداروں اور ریاستی مفاد کو مقدم رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے احتجاج ضرور کیے مگر کبھی ریاستی اداروں، افواجِ پاکستان یا قومی املاک کو نقصان نہیں پہنچایا۔ آج پاکستان کی عالمی عزت اللّٰہ تعالٰی کی عطا ہے جس میں سیاسی قیادت، افواجِ پاکستان اور تمام اداروں کا مشترکہ کردار شامل ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کو حالیہ علاقائی اور سفارتی معاملات میں جو کامیابی اور عالمی سطح پر جو پذیرائی ملی ہے وہ صرف کسی ایک جماعت یا ادارے کا نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے حصے میں آئی ہے۔ اس سے صرف چند افراد نہیں بلکہ پورے پاکستان کے وقار اور عزت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے حلقے میں جاری ترقیاتی منصوبے ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ انہیں عوام کی خدمت کا موقع ملا۔ ان کے لیے پہلی ترجیح دین اور دوسری ترجیح پاکستان ہے۔
