بیجنگ :چینی میڈیا نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ایک بار پھر چین کا سرکاری دورہ کیا۔ یہ چار سالوں میں ان کا چین کا چوتھا دورہ تھا۔ چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے ان سے ملاقات کی، اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت و خوراک سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کی دستاویزات پر دستخط ہوئے۔ ہسپانوی میڈیا کا خیال ہے کہ ان نتائج نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک باہمی اعتماد کو بڑھایا ہے اور دوطرفہ “تعمیری مکالمے اور عملی تعاون” کو مؤثر طریقے سے فروغ دیا ہے۔
اقتصادی اور تجارتی تعاون چین-اسپین تعاون کی نمایاں خصوصیت ہے۔ چین ،مسلسل کئی سالوں سے، یورپی یونین سے باہر اسپین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا ہے۔ 2025 میں، چین اور اسپین کے درمیان دوطرفہ تجارت نے 55 بلین یو ایس ڈالر سے تجاوز کیا تھا ، جو 2024 کے مقابلے میں 9.8 فیصد اضافہ تھا ۔واضح رہے کہ دونوں ممالک نے اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری (2025-2028) کو مضبوط بنانے کے لیے گزشتہ سال ایک ایکشن پلان تشکیل دیا تھا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی، اختراع اور سبز ترقی اس منصوبے کے کلیدی اجزاء ہیں۔
بیجنگ میں اپنے دورے کے دوران، وزیر اعظم سانچیز نے دس معروف چینی کمپنیوں سے ملاقاتیں کیں، جس میں مزید چینی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اسپین کو زیادہ مسابقتی صنعتی نظام بنانے میں مدد کرنے کی امید تھی۔اسپین یورپی یونین کا ایک اہم رکن ہے۔پیڈرو سانچیز کا دورہ اس سال یورپی رہنماؤں کے چین کے مسلسل دوروں کے رجحان کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہسپانوی فریق نے یورپ اور چین کے درمیان بہتر رابطے اور افہام و تفہیم کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا اور اس یقین کا اظہار کیا کہ یورپی یونین اور چین کے تعلقات کی صحت مند ترقی دونوں فریقوں کے مشترکہ مفاد اور عالمی امن و استحکام کے لیے سازگار ہے۔ایک ذمہ دار بڑے ملک کی حیثیت سے، چین نہ صرف اپنی طرز کی جدید کاری کو آگے بڑھانے کا پختہ عزم رکھتا ہے بلکہ اعلیٰ سطحی کھلے پن کے ذریعے ترقی کے مواقعوں کو دنیا کے ساتھ بانٹنے کا وژن بھی رکھتا ہے۔
چین اور اسپین کی جانب سے اسٹریٹجک فوکس کو برقرار رکھنے اور عملی تعاون کو مزید گہرا کرنے سے نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کو مزید فوائد حاصل ہوں گے بلکہ اس سے چین-یورپی یونین تعاون اور عالمی امن و ترقی میں بھی زیادہ حصہ ادا کیا جا سکے گا ۔
