لندن (آئی پی ایس )دورہ پاکستان کی منسوخی پر انگلینڈ کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں اور برطانوی صحافی اپنے ہی کرکٹ بورڈ پر برس پڑے ہیں۔ برطانوی صحافی جارج ڈوبیل نے کہا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی سے قبل لندن میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا، ایشیز سے قبل دہشت گردی ہوئی ، نیوزی لینڈ ویمن ٹیم کو انگلینڈ میں دھمکی ملی ، حال ہی میں میچز کے دوران تماشائی میدان میں آگئے، ایسا کہیں اور ہوتا تو انگلینڈ کیا کرتا ؟۔برطانوی صحافی کاکہنا تھا کہ برطانوی دفتر خارجہ نے ٹریول ایڈوائس نہیں بدلی، سکیورٹی مشیر نے بھی کچھ نہیں کہا، سفارت خانہ بھی مطمئن تھا مگر دورہ منسوخ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سخت ترین حالات میں انگلینڈ کا دورہ کیا،اگرلندن میں زندگی جاری رہ سکتی ہے تو لاہور میں کیوں نہیں؟ انگلش کرکٹ بورڈ دہرے معیار کی وجہ سے کرکٹ کے دوستوں سے محروم ہوجائیگا۔ ایک اور برطانوی صحافی پیٹر اوبورن نے کہا کہ دورہ پاکستان منسوخ کرنا انگلش کرکٹ بورڈ کا بزدلانہ فیصلہ ہے، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ انگلش کرکٹ بورڈ پلیئر پاور سے گھبراتا ہے، ای سی بی نے بزدلانہ قدم لیکر ایک ایسے دوست کو نقصان پہنچایا جس کا ہمیں مشکور ہونا چاہیے۔ اپنے کالم میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن کا کہنا تھا کہ انگلش کرکٹ کی گورننگ باڈی اورکھلاڑیوں کے پاس موقع تھا کہ وہ اس کرکٹ نیشن کا قرض ادا کرتے جس نے بہت چیلنجزکا سامنا کیا۔ مائیکل ایتھرٹن کا کہنا تھا کہ صرف ایک بیان جاری کرکے غلط کیا گیا، یہ پاکستان کا ہائی پروفائل سیزن تھا، پاکستان کو اس وقت شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
دورہ پاکستان کی منسوخی پر انگلینڈکے اندر سے بھی آوازیں اٹھنے لگیں ، کرکٹ بورڈ پرشدید تنقید
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
