اسلام آباد:(سب نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کو ماڈل ویلیجز میں مقامی اور غیر مقامی افراد کے خلاف آپریشنز کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابقہ حکم جس میں ماڈل ویلیجز بنانے کا جسٹس محسن اختر کیانی نے حکم دیا تھا، معطل کر دیا۔
سی ڈی اے کی ڈی جی انفورسمنٹ انعم فاطمہ، ڈی جی لاء نعیم اکبر ڈار، وکیل نذیر جواد اور عامر گل عدالت میں پیش ہوئے۔ سی ڈی اے کے وکیل نذیر جواد نے دلائل دیے کہ ماڈل ویلیجز کی زمین 60 سال قبل ایکوائر کی جا چکی تھی اور قبضہ حوالے نہیں کیا جا رہا، اور ماڈل ویلیجز بنائے جانے کے بعد غیر مقامی لوگ وہاں آگئے۔
ماڈل ویلج نور پور شاہاں کے رہائشیوں کی جانب سے قیصر امام ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور استدعا کی کہ سی ڈی اے مقامی افراد کے خلاف آپریشنز نہ کرے اور غیر مقامی افراد کو نکالنے کے لیے کمیٹی بنائی جائے لیکن مقامی افراد کو بے گھر نہ کیا جائے۔
عدالت نے مقامی افراد کی آپریشنز روکنے کی استدعا مسترد کر دی اور سی ڈی اے کو ماڈل ویلیجز میں کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

