تاشقند (آئی پی ایس )ازبکستان کے صدر کے انتظامیہ کی سربراہ سیدا مرزا یوف نے اپنے پہلے بڑے انٹرویو میں اپنے کردار، صدر کے کام کرنے کے انداز، اور انتظامیہ کی کلیدی ترجیحات کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ ازبک میڈیا کے مطابق، انہوں نے کہا کہ صدر کی انتظامیہ روزمرہ کی عملی انتظام میں شامل ہونے کے بجائے اسٹریٹجک سمتوں کی تشکیل اور فیصلوں کے نفاذ کی نگرانی پر توجہ دیتی ہے۔
سیدا مرزا یوف نے کہا کہ موجودہ دور “اصلاحات کا دور” ہے، اور مستحکم تبدیلی کے لئے مسلسل نگرانی، ذمہ داری، اور معاشرے سے آگاہی ضروری ہے۔ انہوں نے صدر شوکت میرزیوئف کی شخصی خصوصیات پر زور دیا، جن میں لوگوں کی بات سننے، اپنی ٹیم پر اعتماد کرنے، اور انسانی وسائل کی ترقی کی صلاحیت شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ اصلاحات نہ صرف مضبوط فیصلوں کے ذریعے بلکہ لچک، گفتگو، اور اعتماد کے ذریعے بھی نافذ کی جاتی ہیں۔ سیدا مرزا یوف نے انتظامیہ کی پانچ ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی: پانی کی فراہمی، تعلیم، صحت، کاروبار کی ترقی، اور قضائی نظام۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے مسائل پر خاص توجہ دی جاتی ہے کیونکہ یہ ایک زرعی ملک کے لئے ایک اسٹریٹجک وسائل ہے۔تعلیم اور صحت میں تبدیلیوں کو طویل مدتی کام قرار دیا گیا ہے، جن کے نتائج فورا نظر نہیں آتے۔ سائدا میرزیوئفا نے قضائی نظام کی اہمیت پر زور دیا، اور کہا کہ اس کے بغیر موثر اقتصادی اصلاحات، سرمایہ کاری میں اضافہ، اور عوام کا اعتماد حاصل کرنا ناممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا شخصی دلچسپی بین الاقوامی دیپلوماسی اور گفتگو میں ہے، اور لوگوں کے ساتھ تعاون کو زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے ایک مشترکہ مقصد کے لئے کام کرنا ہے۔سیدا مرزا یوف نے کہا کہ “ہر شخص اہم ہے” کا اصول ریاست کی پالیسی کا مرکزی اصول ہے۔انہوں نے اپنے تقرر کو یہ ضرورت قرار دیا کہ صدر کو زمینی سطح پر صورتحال کے بارے میں براہ راست اور معروضی معلومات فراہم کی جا سکیں۔ اس طرح کے میکانزم سے اصلاحات کے نفاذ کی موثر نگرانی اور علاقوں میں حقیقی مسائل کا فوری جواب دینا ممکن ہوتا ہے۔
