Wednesday, June 3, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومپاکستانستائیسویں آئینی ترمیم کی غلطیاں واپس لے کر آئین کو درست کریں، مولانا فضل الرحمان کا حکومت کا مشورہ

ستائیسویں آئینی ترمیم کی غلطیاں واپس لے کر آئین کو درست کریں، مولانا فضل الرحمان کا حکومت کا مشورہ

اسلام آباد(سب نیوز)جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ 27 ویں ترمیم میں کی گئی غلطیوں کو واپس لیکر آئین کو واپس درست کریں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پارلیمنٹ ایک ایسا فورم ہے جہاں ہم مشاورت سے معاملات طے کرتے ہیں، کوشش کی جائے کہ آئین متنازعہ نہ ہو لیکن 27 ویں ترمیم میں ایسا نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم متنازع ہوگی اور اسے آئین کے ٹائٹل پر زخم سمجھا جائے گا، 1973میں بھٹو کی دو تہائی اکثریت تھی مگر انہوں نے بھی مذاکرات کیے تھے۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ قانون سازی 26 ویں ترمیم میں بھی ہوئی تھی، ہم نے سود سے متعلق تجاویز پیش کیں جب 26 ویں ترمیم آئی تو پی ٹی آئی کے دوست رابطے میں رہے، اس پر بھی ایک ماہ میں اتفاق رائے حاصل کرلیا۔انہوں نے کہا کہ 26 ویں ترمیم کے برعکس 27 ویں ترمیم کے لیے جمہوری تقاضے پورے نہیں ہو سکے، سیاسی لحاظ سے بہت بونے پن کا مظاہرہ کیا گیا، شعوری طور پر ایسا کیوں کیا گیا؟۔ کچھ مرعات ایسی شخصیات کو دی گئیں جس سے طبقاتی فرق پیدا ہوگیا ہے، ہمیں شخصیات یا ان کے منصب سے مسئلہ نہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج پنجاب میں ڈی سیز ہاتھ مروڑ کر وزارت تعلیم سے علما کو رجسٹرڈ کروا رہے ہیں، آپ نے 18 سال سے پہلے کے شرعی نکاح کو جنسی زیادتی قرار دیا ہے مگر بچے جائز ہونگے، یہ کہتے ہیں کہ اللہ کو جواب دینا ہے اللہ کو جواب دینے والے کام تو آپ کر چکے ہیں، آپ نے غلطیاں کی ہیں ان کو واپس کریں، آئین کو واپس درست کریں۔انہوں نے کہا کہ آج جو مغرب چاہتا ہے ہم اس کی پیروی کر رہے ہیں، آج آپ یہود و نصاری کی پیروی کرتے ہوئے آ رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔