ہومبریکنگ نیوزقواعد نہ ہونے کے باوجود آئینی عدالت میں اعلی ترین تعیناتیوں کی منظوری، 8 سینئر عہدے تخلیق کر دیے گئے

قواعد نہ ہونے کے باوجود آئینی عدالت میں اعلی ترین تعیناتیوں کی منظوری، 8 سینئر عہدے تخلیق کر دیے گئے

اسلام آباد (آئی پی ایس )ملک میں آئینی تشریح کے لیے حال ہی میں قائم کی گئی اعلی ترین عدالت، وفاقی آئینی عدالت نے بظاہر آئین کے آرٹیکل 208 کی شق کے تحت کچھ تقرریاں کی ہیں، جن میں بعض ملازمین کو وفاقی حکومت کی اسپیشل پروفیشنل پے اسکیل پالیسی میں رکھا گیا ہے۔

ایف سی سی کی جانب سے اس ہفتے کے اوائل میں جاری ایک نوٹیفکیشن جس کی منظوری چیف جسٹس امین الدین خان نے دی کے ذریعے 8 سینئر عہدے تخلیق کیے گئے ہیں، جن میں ایک بی ایس-22 کا اور 7 بی ایس-21 کے عہدے ہیں، اور ان سب کو ایس پی پی ایس میں رکھا گیا، ایس پی پی ایس۔I کے تحت تنخواہ کا پیکیج 15 لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک ہے، جو تقریبا ہائی کورٹ کے جج کی تنخواہ کے برابر ہے۔تاہم سروس قوانین سے واقف سینئر وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ ایف سی سی انتظامیہ نے تاحال آرٹیکل 208 کے تحت کوئی قواعد وضع نہیں کیے، لہذا مذکورہ آرٹیکل کی شق کے مطابق، وہ صرف سپریم کورٹ کے ان قواعد پر عمل کر سکتی ہے۔

جو سپریم کورٹ کے ملازمین اور افسران کی تقرری سے متعلق ہیں۔ایس پی پی ایس کے اسکیل بعض افسران کو دینا، جب کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے قواعد میں کوئی مماثل شق موجود نہیں، ایف سی سی کے افسران و ملازمین کی ملازمت کی شرائط و ضوابط کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا سکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔