Friday, May 8, 2026
ہومتازہ ترینافغان تصفیہ کیلئے امریکا کی نگاہیں چین پر

افغان تصفیہ کیلئے امریکا کی نگاہیں چین پر

واشنگٹن/اسلام آباد،امریکا نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں سیاسی مفاہمت اور فریقین کے درمیان تصفیے کے لیے پاکستان اور چین ہماری مدد کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے افغانستان میں سیاسی تصفیے کے لیے پاکستان اور چین سے مدد مانگ لی، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ تمام پڑوس ممالک افغانستان میں استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں،نیڈ پرائس نے پریس بریفنگ میں مزید کہا کہ بائیڈن انتظامیہ امن کے لیے افغانستان کے تمام پڑوسیوں سے رابطے میں ہے اور ہم نے افغانستان کے تمام پڑوسیوں بالخصوص پاکستان اور چین کے سامنے یہ بات رکھی ہے کہ افغانستان میں استحکام، سلامتی اور سیاسی تصفیے کی تیاری میں ہماری مدد کریں، یہ سب کے مفاد میں ہے،امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ چاہے پاکستان ہو یا چین ہو یا پھر وہ ممالک ہوں جن کا افغانستان میں کوئی نہ کوئی کردار رہا ہے ، ہم نے ان سب کے ساتھ تعمیری گفتگو جاری رکھی ہوئی ہے۔دوسری طرف وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف العثمین کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنا تعمیری اور مثبت کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے، ہمیں توقع ہے کہ افغان رہنما اپنے باہمی اختلافات کے خاتمے اورجامع سیاسی تصفیے کیلئے جاری مذاکرات سے فائدہ اٹھائیں گے، کابل میں جاری مذاکرات کی کامیابی نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کیلئے بہتری کا باعث ہوگی، ضرورت اس امرکی ہے کہ افغان شہریوں کی سیکورٹی اوران کے حقوق کے تحفظ کویقینی بنایا جائے۔وزیرخارجہ نے عالمی برادری پرزوردیا کہ وہ افغانستان کی بحالی اورتعمیرنو کیلئے افغانوں کو معاشی معاونت کی فراہمی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ مسلم امہ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کیلئے افغانوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرے، کابل میں ایک ایسی وسیع البنیاد حکومت کے خواہاں ہیں ۔ وزیرخارجہ نے سیکرٹری جنرل او آئی سی کو افغانستان کے اندر اور باہر کچھ امن مخالف قوتوں کی موجودگی کے خطرے سے بھی آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے کابل میں واپسی کے منتظر مختلف ممالک کے سفارتی عملے، بین الاقوامی اداروں کے ورکرز اورمیڈیا نمائندگان کے انخلا کیلئے پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ معاونت سے بھی آگاہ کیا۔علاوہ ازیں امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ طالبان کا امریکی شہریوں پر تشدد ناقابل قبول ہے، طالبان دوبارہ ایسی حرکت نہ کریں۔امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ طالبان نے کابل سے انخلا کرنے والے بعض امریکیوں کو زدوکوب کیا اور ڈرایا، طالبان جنگجوں کا یہ فعل کسی صورت قابل قبول نہیں، طالبان قیادت کو اس بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔ترجمان پینٹاگون نے بھی امریکی شہریوں پر تشدد کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر طالبان سے رابطہ کیا ہے اور انہیں کہا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے۔دوسری طرف متحدہ عرب امارات نے 5 ہزار افغان شہریوں کی عارضی رہائش دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی درخواست پر 5 ہزار افغان شہریوں کو عارضی طور پر ملک میں رہائش فراہم کی جائے گی تاہم کچھ عرصے بعد ان تمام افراد کو دوسرے ملک بھیج دیا جائے گا، ان تمام افراد کو آئندہ چند دنوں میں کابل ائیرپورٹ سے امریکی جہاز میں متحدہ عرب امارات پہنچایا جائے گا۔یو اے ای وزارت خارجہ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے تقریبا 8500 غیر ملکیوں کے افغانستان سے انخلا میں مدد فراہم کی ہے، ان افراد میں سفارتکار اور ان کے اہل خانہ سمیت این جی او کے ورکرز شامل ہیں جنہیں کابل سے عرب امارات پہنچایا گیا ہے۔نائب وزیر برائے متحدہ عرب امارات وزارت خارجہ سلطان محمد الشمسی کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات ہمیشہ امن سے مسائل حل کرنے کا خواہاں رہا ہے، اس کے علاوہ ہم اس غیر یقینی کی صورتحال میں عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر افغان عوام کو ہر طرح کی مدد فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔