تحریر: حمیرا الیاس
@humma_g
حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے کی والا تھا۔
محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ایک واضح فرمان ہے کہ جب حق غالب ہوتا ہے تو باطل کے اندھیرے مٹ جاتے ہیں ۔ اور باطل کیا ہے؟ وہ جوجھوٹ ہے اور جو ناحق اور غلط ہے۔ یہ بات کما حقہ ثابت ہو رہی کہ حق اور باطل ایک دوسرے کی ضد ہیں، جدھر باطل غالب ہو فائق مغلوب ہی رہے گا۔ یہ حق تھا جو غالب آیا جب راجہ داہر کی طرف سے پے درپے بہت سے خون آشام واقعات کے بعد راجہ داہر کے ظلم کو ختم کرنے کی غرض سے ایک سترہ سالہ سپہ سالار نے اپنی کہنہ مشقی سے اس جنگ میں فتح حاصل کی۔ محمد بن قاسم نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے ملتان تک کے علاقہ کو فتح کر لیا۔ اگر حق کی فتح نہ ہوتی تو سرزمین ہند ہمیشہ کے لئے اسلامی تمدن کا گہوارہ نہ بنتا بن قاسم تو ملتان تک فتح کرنے کے بعد واپس چلا گیا تو پیچھے جو اسلامی تہذیب کی پوپھٹی وہ زمانہ حال تک موجود ہے۔
آج جب لبرلز آرام سے کہتے کہ اسلام اور ہندومت ایک سے ہیں تو یہ قدرت کی تقسیم سے انحراف ہے۔ جبکہ قدرت کہتی ہے جب حق آئے تو باطل مٹ جاتا۔
دوقومی نظریہ کیا ہے؟ اور اس کے بارے علم کو ہر دورمیں زندہ رکھنا اتنا ضروری کیوں ہے؟
قومیں پروان چڑھتی ہیں کسی خاص نظریہ سے اورضروریات کی بنیاد پر قبائل فروغ پاتے، زندگی کو اگر کسی لائحہ عمل کے بنا گزاریں تو فقط گزرتی چلی جاتی،جب کسی خاص مقصد سے جڑ جائے زندگی امرہوجاتی۔ ایسے ہی 1857 کی جنگ آزادی کے فوری بعد مسلمان جو روبہ زوال تھے، اور مقصد حیات فراموش کرچکے تھے وہ مغلوب ہو رہے تھے کہ باطل کی قوتیں اپنے مفادات کی بنا پر آپس میں گٹھ جوڑ کرکے مسلمانوں کے وجود کے خاتمے کے درپے تھیں تو علماء نے مسلمانوں کے احیاء کا بیڑا اٹھایا اورسب سے پہلے مسلمانوں میں علم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ بہت آغاز میں چالاک ہندو بنیے نے کوشش کی کہ ہندو مسلم اتحاد کا راگ الاپ کرانگریزسے تو نجات حاصل کی جائے اور پھر مسلمانوں کو مغلوب رکھا جائے۔
یہ وہ وقت تھا جب دوقومی نظریہ پرکام کرنا شروع ہوا مسلمان اکابرین نے یہ بات واضح کی کہ حق غالب رہنے کے لئے ہے اور حق کی ترویج علم کے حصول سے منسلک ہے جس سے مسلمانوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے دور رکھا جا رہا تھا۔
ڈیڑھ صدی قبل جو دوقومیتوں کی تعریف بیان کی تھی، پاکستان کے قیام کا باعث بنی۔
ﺗﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺧﺎﻟﺪ ﮐﺎ ﻟﮩﻮ
ﺗﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻃﺎﺭﻕ ﮐﯽ ﻧﻤﻮ
ﺷﯿﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺷﯿﺮ ﮨﮯ ﺗﻮ
ﺷﯿﺮ ﺑﻦ ﺍﻭﺭﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺁ
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﯿﺎ؟
ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ہمارا پاکستان کے قیام کا مقصد حق کو فتح دلوانا تھا اور باطل کے مقابلے میں حق پرجم جانا ہی ہماری فتح کا باعث بنا۔ آج پاکستان کو بنے چوہتر برس بیت گئے، حق اور باطل کی جنگ لڑ رہے جب سے پاکستان بنا اندرونی و بیرونی ریشہ دوانیوں نے پاکستان کو اس طرح پنپنے نہ دیا وجہ؟ صرف اور صرف یہ خوف کہ اگر ایک بار اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا تو ارد گرد کوئی باطل قوت کھڑی نہیں رہ سکے گی۔ 1948کی پہلی جنگ ہو یا 1965 اور 1971 وہ جو باطل کے ساتھی تھے، حق کے غلبے سے خوفزدہ پاکستان کو گروی رکھتے چلے گئے۔
شکوہ نہیں تھا غیر سے کہ کیونکر دغا دیا
اپنوں کے دھوکے نے ہمیں جڑ سے ہلا دیا
پاکستان کو ہرآن مورد الزام ٹھہرایا بھارت میں رہ جانے والے بہت سے نام نہاد مسلمان اکابرین نے، کہ اگر الگ وطن کا مطالبہ نہ کرتے تو متحدہ ہندوستان میں سب زیادہ بہتر انداز میں زندگی بسر کرتے اور یہ کہ اس بٹوارے کی وجہ سے ان کے لئے ہندوستان میں رہنا مشکل ہو جاتا۔ اسد الدین اویسی جیسے رہنما ہندوستان میں ہونے والے ہر ظلم کے لئے پاکستان کوذمہ دار ٹھہراتے رہے۔ لیکن اس صدی کے اوائل میں جس طرح گجرات میں اس وقت کے وزیراعلی نریندر مودی کی ایماء پر مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا،مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی گائے کے ذبح پر پابندی لگائی گئی وہ سب کچھ واضح کرگیا کہ پچھلی صدی میں جو دوقومی نظریہ پیش کیا گیا تھا وہ کتنا درست تھا اور تب کے مسلمان اکابرین کتنی فہم و فراست والے اور دوراندیش تھے۔ مودی نے ظلم کی جو داستان گجرات میں رقم کی تھی اس کا سلسلہ وہیں تک رکا نہیں،کشمیر میں خون کی ہولی صرف اسی وجہ سے کھیلی جاتی کہ ادھرکی ابادی مسلمان ہے، اب اگست 2019 کے بعد سے دنیا کی آنکھوں سے اوجھل کشمیرجنت نظیر میں مسلمانوں کی نسل کشی واضح ثبوت ہے کہ ہندو اور مسلمان متحد نہیں رہ سکتے،ان کے دلوں میں مسلمانوں سے نفرت اور بغض کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔
کشمیریوں پر رصہ حیات تنگ کرنے کے بعد سی اے اے جیسے بل پاس کرکے مسلمانوں ہی نہیں سکھوں کے لئے بھی بھارت میں زندگی کے راستے تنگ کر دئیے گئے۔ شاہین باغ میں دھرناہویا دہلی یونیورسٹی میں مسلمان طلباء پرہولناک تشدد۔ تاریخ کا ہر منظر گواہ ہے کہ ہندو متعصب قوم ہےاور اس باطل ک امقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کو سیسہ پلائی دیوارکی طرح مضبوط ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔
اس سال کے آغازمیں کسانوں کو تباہ کرنے کا بل جس میں سکھ کسانوں پرمعاش کے راستے بند کرنے کے لئے تمام اقدامات کئے گئے اور دہلی ایک بار پھر خون رنگ رہا، یہ ثبوت ہیں کہ ہندو صرف مسلمانوں نہیں ہر دوسری قومیت کے خلاف ہیں ان کا احساس برتری کا غرور انہیں ہر آن تنگ کئے رکھتا ہے۔
اس وقت آسام کی ریاست ہو یامیزورم،منی پورہو یا جوناگڑھ، پنجاب ہر جگہ علیحدگی پسند تحاریک اپنے عروج پر ہیں۔ اکھنڈ بھارت کے شوقین متعصب ہندو نے ہندوستان کو قبرستان میں تبدیل کردیا جہاں ہندوؤں کے علاوہ پرکسی کو دفن کر دیاجائے۔ ارد گرد کوئی ایک بھی ہمسایہ ایسا نہیں جس کے ساتھ خوشگوار تعلقات نہیں ہرملحقہ علاقہ میں دراندازی ہندوستان کا مرغوب مشغلہ ہے لداخ سے کالاپانی اورافغانستان ایران کے راستے پاکستان میں شرانگیزی آج احساس دلاتی ہے کہ ہمارے بالغ النظر رہنماؤں نے ہمیں آزادی جیسی نعمت حاصل کرکے دی تو ہی ہم آج متعصب ہندو کی چیرہ دستیوں سے محفوظ ہیں جداگانہ طرززندگی کو نہ ماننے والے اور ہندو مسلم اتحاد کے راگ الاپنے والے بھی اب یہ ماننے پر مجبورہوچکے کہ ہندو اورمسلمان دو الگ قومیں ہیں، جن کا طرز معاشرت میل نہیں کھاتا، اور تمدنی لحاظ سے ہندوؤں کو مسلمانوں میں مدغم کرنے کے جتنے جتن تھے سب غیر حقیقی ہیں۔ حق کو ہمیشہ باطل کے مدمقابل ہی رہنا ہے، ابتدا سے یہی ہو رہا ہےکہ حق کتنی بھی صعوبتوں کا سامنا کرلے آخر کار فتح حق ہی کی ہوتی ہے۔
اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والے ہندوستان کے حصے بخرے کرنے کاوقت قریب ہے، کیونکہ ظلم جب حد سے گزرتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ جنگ ہندوستان کی دہلیز پر کھڑی ہے اور اس کی دعوت خود ہندوانہ ذہنیت رکھنے والے عناد سے بھرے لیڈران نے رکھی، افغانستان میں ہزیمت اٹھا چکا، چین سے شکست ہوچکی ہے سری لنکا الٹی میٹم دے چکا، آسام میزورم میں جھڑپیں چل رہیں، مہاجرین کے حوالے سے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات خراب یہ ڈیڑھ صدی بعد آج دوقومی نظریہ کی فتح ہے۔
خطبہ الہ آباد سے اقتباس
برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمانوں کےلئے الگ مملکت قائم کردی جائے کیونکہ دونوں اقوام کا یکجارہنا ناممکن ہے اور نہ ہی یہ یکجا ہوکرآگے بڑھ سکتے ہیں۔ الٰہ آباد میں گنگاوجمنا کا پانی جس طرح الگ الگ نظر آتا ہے، اسی طرح یہ دونوں اقوام اکٹھی رہنے کے باوجود شناخت میں الگ الگ ہیں۔
اکھنڈ بھارت سے کھنڈربھارت تک کا سفر اور انتخاب خود بھارت سرکار نے کیا۔ اور ہماری بقاء کے لئے لازم ہے کہ اپنی نظریاتی اور علاقائی سرحدوں پر اغیار کے ہرحملے کو مل کر متحد ہو کر ناکام بنائیں۔
پاکستان زندہ باد۔
ہندو، مسلم اتحاد اور دوقومی نظریہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
