ہومتازہ ترینافغانستان پر قبضے کی جنگ شدت اختیار کر گئی ،قندوز اور سر پل پر بھی طالبان قابض ،امریکی طیاروں کی طالبان ٹھکانوں پر بمباری، 200ہلاک

افغانستان پر قبضے کی جنگ شدت اختیار کر گئی ،قندوز اور سر پل پر بھی طالبان قابض ،امریکی طیاروں کی طالبان ٹھکانوں پر بمباری، 200ہلاک

کابل، امریکی طیاروں نے ایک بار پھر افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں بمباری کی ہے۔افغان ملٹری کے ترجمان فواد امان کے مطابق امریکی B-52 بمبار طیاروں نے صوبے جوزجان کے شہر شبرغان ،ہلمند، ہرات اور قندھارمیں طالبان کے ٹھکانوںپر بمباری کی جس کے نتیجے میں طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، اطلاعات کے مطابق امریکی بمباری میں 200 کے قریب طالبان مارے گئے اور 100 سے زائد گاڑیاں تباہ ہوگئیں جب کہ بڑے پیمانے پر ہتھیار بھی تباہ کردیے گئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق B-52 بمبار طیاروں کو AC-130 گن شپ جہاز کی بھی معاونت حاصل تھی، اس کے علاوہ افغان زمینی فورسز کی جانب سے بھی بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ۔دوسری جانب طالبان نے صوبے جوزجان کے دارالحکومت شبرغان پر بھی قبضہ کر لیا ہے اور ایرانی سرحد کے قریب واقع زرنج شہر میں طالبان کا امریکی گاڑیوں پر گشت جاری ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں میں طالبان کے قبضے میں جانے والے صوبائی دارالحکومتوں کی تعداد 2ہوگئی ہے جبکہ ہرات اور لشکرگاہ میں بھی شدید لڑائی جاری ہے۔ طالبان جمعے سے اب تک 4 صوبائی دارالحکومت پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، جس کے بعد رونما ہونے والی پیش رفت سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ افغان فورسز کو کئی محاذوں پر ناکامی کا سامنا ہے۔افغانستان کے شمالی علاقے قندوز اور سر پل یکے بعد دیگرے محض چند گھنٹے کے فرق سے طالبان کے قبضے میں چلے گئے، اس حوالے سے مقامی شہریوں اور قانون سازوں نے بھی تصدیق کی کہ جنگجوں نے شدید لڑائی کے بغیر ہی ان دونوں علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا۔قندوز کے ایک رہائشی نے بتایا کہ شہر مکمل طور پر افراتفری کا شکار ہے۔دوسری جانب طالبان نے ایک بیان میں کہا کہ بعض مقامات پر لڑائی کے بعد مجاہدین نے قندوز کے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا۔اس پیش رفت سے متعلق سرپل میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی پروینا عظیمی نے فون پر بتایا کہ طالبان نے سرپل شہر، سرکاری عمارتوں اور وہاں کی تمام تنصیبات کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے جبکہ سرکاری افسران اور بقیہ افغان افواج شہر سے تین کلومیٹر دور فاصلے پر ایک بیرک میں محصور ہوگئے ہیں۔علاوہ ازیں قندوز طالبان کی سب سے اہم کامیابی تصور کی جارہی ہے جہاں جنگجوں نے مئی میں حملہ کیا تھا جب امریکی افواج کا انخلا آخری مراحل میں تھا۔یہ طالبان کے لیے اہم ترین ہدف رہا ہے کیونکہ انہوں نے 2016 میں شہر پر دوبارہ قبضہ حاصل کیا تھا تاہم ان کا کنٹرول کبھی بھی زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہا۔وزارت دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ سرکاری فورسز اہم تنصیبات کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے لڑ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فورسز نے کلیئرنگ آپریشن شروع کردیا اور کچھ مقامات بشمول ریڈیو اور ٹی وی کی عمارتوں کو طالبان سے واپس حاصل کرلیا ہے۔اس حوالے سے ان کی پارٹی کے ترجمان احسان نیرو نے بتایا کہ ہم نے حکومت سے کم از کم 500 کمانڈوز تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ہم شہر کو طالبان کے کنٹرول سے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے آپریشن کرسکیں۔خیال رہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد مسلسل پیش قدمی کرنے والے افغان طالبان نے ملک کے 85 فیصد حصے پر قبضے کا دعوی کیا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔