اسلام آباد/مظفر آباد/سرینگر ، بھارت کی طرف سے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے غیر قانونی اقدامات کو دو سال بیت گئے ، پاکستان بھر میں اس موقع پر یوم استحصال کشمیر منایا گیا ، یوم استحصال کشمیر کے سلسلے میں شاہ محمود قریشی کی قیادت میں دفتر خارجہ سے ریلی نکالی گئی، جس میں صدر مملکت عارف علوی، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، شبلی فراز اور اعظم سواتی سمیت دیگر نے شرکت کی۔
یوم استحصال کی تقریب سے خطاب کے دوران صدر مملکت نے کہا کہ 2019 کو آج کے دن بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے میں تبدیلی کی، بھارت نے ڈوگرا راج کی زیادتی آج تک جاری رکھی ہے، مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جارہا ہے، غیر کشمیری عوام کو لاکر کشمیر میں آباد کیا جارہا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کی انسانی زندگیوں میں فرق ہے کیونکہ آزاد کشمیر میں ہر شخص آزاد ہے اور میڈیا بھی آزادی سے کام کر رہا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کی عوام پر مظالم جاری ہیں اور ہزاروں کشمیری شہید کیے گئے۔ وہاں بہانے سے کرفیو لگا دیا جاتا ہے ، کشمیریوں کے منہ پیلٹ گن سے چھلنی کیے گئے، مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والا ہر بچہ آزادای کا سپاہی بن جاتا ہے۔صدر نے مزید کہا کہ کشمیر ہمارے جسم کا حصہ ہے، پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ ہے، وزیراعظم عمران خان نے دنیا بھر میں کشمیر کا مقدمہ موثر انداز میں لڑا ہے، کشمیر کی حیثیت بحال ہونے تک ہندوستان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے، بھارت آگ سے کھیل رہا ہے، بھارت کو بتانا چاہتاہوں کہ ہم کشمیر آزاد کرکے رہیں گے۔علاوہ ازیں یوم استحصال پر وزیراعظم عمران خان سے تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی)کے انسانی حقوق کمیشن کے وفد نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے میں او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کے کردار کی تعریف کی اور اسلامو فوبیا کے تدارک کے لیے امت مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 2 سال کے دوران انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہوچکی ہے، 5اگست 2019 سے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں تیزی آئی، مقبوضہ کشمیر کے لوگ یواین قراردادوں کے تحت حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں، بھارتی حکومت نے ڈھٹائی سے کشمیریوں کیساتھ وحشیانہ سلوک کیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل، تشدد کرکے معذور کیا گیا، بڑی تعدادمیں حریت پسند رہنماں کو بھی حراست میں لیاگیا، پیلٹ گن کیاندھا دھند استعمال سے کشمیری نوجوان بینائی کھو بیٹھے، ظلم کا ہر حربہ استعمال کر کے بھی بھارت کشمیریوں کی تحریک دبانے میں ناکام رہا،وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر اورفلسطین کا معاملہ تاریخ کی سب سے بڑی ناانصافی ہے، اوآئی سی اور اقوام عالم اس معاملے پر کردار کریں۔انہوں نے ملاقات میں بھارتی رجیم اور ہندوتوا نظریے پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری مسلمانوں کوبھارتی قبضے، جبر سے آزادی کے مطالبے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کوحق خودارادیت کیساتھ مذہبی آزادی سے بھی محروم کیا جا رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو اکثریت ، الگ شناخت کھونے کاخطرہ ہے، کشمیر کی تازہ صورتحال جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی، جنگی جرائم کے مترادف ہے۔او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کے وفد کی حالیہ خدمات کو سراہتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اوآئی سی مضبوط اور موثر آواز کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے۔یاد رہے بھارتی آئین کے مطابق 370 اور 35 اے سے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ مل گیا تھا۔ بھارتی آئین میں ان دونوں شقوں کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی غیر ریاستی باشندہ زمین اور جائیداد خرید نے کا قانونی حق نہیں رکھتا تھا،بھارتی آئین میں ان شقوں کی موجودگی میں سرکاری نوکریاں کا حق صرف کشمیریون کو حاصل تھا جو ان سے چھین لیا گیا۔اس قانون کے مطابق بھارتی لوگ مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہری نہیں بن سکتے تھے۔ بھارتی آئین میں ان شقوں کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی اسمبلی اپنے شہریوں کے لئے الگ قانونی سازی بھی کرسکتی تھی۔بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے 5 اگست 2019 کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے 370 اور 35 اے کو ختم کر کے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے اس کی توثیق کروا دی۔ یوں بھارت نے ایک مسلم اکثریتی ریاست کو اقلیت میں تبدیل کرنے آغاز کر دیا۔
یوم استحصال،کراچی سے خیبر تک ایک ہی گونج، کشمیر بنے گا پاکستان ،ایل او سی کے دونوں جانب احتجاجی ریلیاں ، مظاہرے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
