بیجنگ (سب نیوز )وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے دورہ چین کے چھٹے روز گوانگ ژو میں انویسٹمنٹ کانفرنس کی صدارت کی جس میں چین اور ہانگ کانگ کی 60 سے زائد نمایاں کمپنیوں کے حکام شریک ہوئے۔چین کے شہرگوانگ ژو پہنچنے پر وزیراعلی مریم نواز کے اعزاز میں اسٹیٹ ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔ گوانگ ژو کے وائس گورنر زینگ گوزی سے ملاقات میں مریم نواز کا کہنا تھاکہ دروہ چین میں بہت کچھ جاننے، سمجھنیاور دیکھنیکا موقع ملا ہے۔
وائس گورنر گوانگ ژو نے کہاکہ مریم نواز کی آمد کو خوش بختی سمجھتے ہیں۔بعدازاں وزیراعلی نے انویسٹمنٹ کانفرنس کی صدارت کی جس میں صحت، آرٹی فیشل انٹیلی جنس، زراعت، آئی ٹی اور دیگر شعبوں کے نمائندے شریک ہوئے اور چینی کمپنیوں نے پنجاب میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
مریم نواز نے فوکل پرسن مقرر کرنے کے علاوہ ورکنگ گروپ اور ہیلپ ڈیسک قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چینی کمپنیوں کو ون ونڈو آپریشن کے تحت سہولتیں ملیں گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں زیرو ویسٹ مشن شروع ہوچکا ہے، ویسٹ کو قابل تجدید انرجی میں تبدیل کرنے کے منصوبے شروع کررہے ہیں، نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی نقلاب برپا کیا جاسکتا ہے، سستی بجلی کیلئے ونڈ مل، سولر انرجی اور قابل تجدید انرجی ذرائع پر توجہ دی جارہی ہے۔
ان کا کہناتھاکہ ایکو سسٹم میں بہتری کیلئے اصلاحات بھی متعارف کرائی جارہی ہیں، میگا سولرائزیشن پروجیکٹ میں چینی کمپنیوں کے اشتراک کا خیر مقدم کریں گے، ای کامرس، انکیوبیٹر سینٹر اورای لرننگ میں بھی سرمایہ کاری کو ویلکم کریں گے، چینی کمپنیاں نواز شرشریف آئی ٹی سٹی میں بھی سرمایہ کاری کرسکتی ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھاکہ پاکستان اور چین تعلقات کے فروغ کیلئے چینی سرمایہ کاروں کا رد عمل حوصلہ افزا ہے، پاکستان وسطی ایشیا، مڈل ایسٹ اور دیگر ممالک کیلئے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان گلوبل ٹریڈ روٹ کا قابل قدر حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن ٹیکنیک کیلئے چین کے ہیلتھ سسٹم سے مستفید ہونگے، زراعت میں نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے، پنجاب میں واٹر ایفی شنٹ اریگیشن سسٹم متعارف کرانا چاہتے ہیں۔وزیراعلی پنجاب نے مزید کہا کہ چین کی کمپنیوں کیلئے پنجاب میں کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کا بہترین وقت ہے۔
