اسلام آباد،وفاقی وزارت صحت نے اپنی ہی انکوائری کمیٹی کی سفارشات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاصم روف کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی(ڈریپ)کا چیف ایگزیکٹیو آفیسر تعینات کردیا ہے،ایک ہفتہ قبل وزارت صحت کی انکوائری کمیٹی نے عاصمروف کی ترقی و تقرری کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔وزارت صحت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عاصم روف کو یہ عہدہ 17 جون 2021 سے تین ماہ کیلئے یا ڈریپ کے اگلے مستقل سی ای او کی تعیناتی تک دیا گیا ہے۔عاصم روف کی بطور سی ای او ڈریپ تعیناتی سے متعلق وزارت صحت کا 22 جون کو جاری کیا گیا نوٹیفکیشن گزشتہ روز میڈیا کو ریلیز کیا گیا۔اس سے قبل وزارت صحت کی انکوائری کمیٹی نے عاصم روف اور دیگر 2 ملازمین کی 2017 کو ڈپٹی ڈائریکٹر سے ایڈیشنل ڈائریکٹر کے عہدے پرترقی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔انکوائری رپورٹ کے مطابق عاصم روف کو 2018 میں پچھلی تاریخوں میں ایڈیشنل دائریکٹر کے عہدے پر دی گئی جو ایک غیر قانونی عمل تھا۔ عاصم روف کی بطور سی ای او تقرری ڈریپ ایکٹ 2012 کی خلاف ورزی ہے، ڈریپ ریکارڈ ضائع کرانے سے متعلق ویڈیو کو فرانزک انونسٹی گیشن کرائی جائے۔وزارات صحت کی انکوائری کمیٹی نے عاصم روف کی ترقی و تقرری کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے ڈریپ کے سی ای او اور دیگر 13 دائریکٹرز کی قوائد و ضوابط کے مطابق تعیناتی کی سفارش کردی تھی۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم اور نیب کو لکھے گئے خطوط میں الزامات عائد کیا گیا ہے کہ عاصم روف کو رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پچھلی تاریخوں میں ڈپٹی ڈائریکٹر سے بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر ترقی دی گئی، جب کہ ڈریپ سروس رولز میں ایڈیشنل ڈائریکٹر کی کوئی پوسٹ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق جب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے عاصم روف کی غیر قانونی ترقی پر وزارت صحت سے جواب طلب کیا تو سابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ کے دبا پر معاملے کو دبا دیا گیا اور عاصم روف ایڈیشنل ڈائریکٹر کے تمام مراعات لیتے رہے۔عاصم روف کو بعد ازاں ڈائریکٹر ڈریپ تعینات کیا گیا جبکہ ان کے پاس ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈریپ لاہور کا چارچ بھی تھا۔ بعد ازاں عاصم روف کو ڈریپ کے سی ای او کا چارچ بھی دیا گیا۔ اب عاصم روف بیک وقت تین عہدوں پر کام کررہے ہیں۔ ان کے پاس ایڈیشنل ڈائریکٹر لاہور، ڈائریکٹر ڈریپ اسلام آباد و سی ای او ڈریپ کا عہدہ ہے۔
وفاقی وزارت صحت کی اپنی ہی انکوائری کمیٹی کی سفارشات نظر انداز ، عاصم روف سی ای او ڈریپ تعینات
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
