اسلام آباد ،اسلام آباد ماڈل ٹائون سوسائٹی کا بڑا سکینڈل سامنے آ گیا ، ملوٹ کے رہائشی احمد شاہ ، نصیر حسین شاہ اور تصدق حسین شاہ نے ماڈل ٹائون سوسائٹی کے مالک ملک طاہر اور مرزا نوید پراپنی زمینوں پر ناجائز قبضے کا الزام عائد کر دیا، متاثرین نے ماڈل ٹائون سوسائٹی کے مالکان کے خلاف علاقہ مجسٹریٹ اے سی انیل سعید کو درخواست دیتے ہوئے سوسائٹی کو سیل کرنے کی اپیل کر دی اور کہا کہ اسلام آباد ماڈل ٹائون سوسائٹی کے مالکان جعلی ایل او پی لے کر فائلیں فروخت کر رہے ہیں ،ماڈل ٹائون کے پاس صرف 14کنال اور2مرلے ملکیتی زمین ہے جبکہ پولیس کی ملی بھگت سے ہماری ملکیتی اور شاملاتی زمین پر قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے ،بااثر انتظامیہ سادہ لوگوں کو کیسوں میں پھنسا کر انکی زمینوں پر قبضے کی کوشش کر رہی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق موضع ملوٹ کے رہائشی احمد شاہ ، نصیر حسین شاہ اور تصدق حسین شاہ نے علاقہ مجسٹریٹ کو دی گئی درخواست میں کہا کہ ہم اپنی آبائی زمین کھیوٹ نمبر 165تا 169میں رقبہ تقریبا 956کنال کے جدی مالکان و قابضین ہیں ، ان کھیوٹوں میں پارک ویو ہائوسنگ سوسائٹی 137کنال کے مالک ہیں اور اسلام آباد ماڈل ٹائون کے مالک ملک طاہر اور مرزا نوید نے خسرہ نمبرات 768تا 781پر قابض ہیں اور اسلام آباد ماڈل ٹائون سوسائٹی بنا کر چیئرمین سی ڈی اے سے جعلی ایل او پی لے کر لوگوں میں فائلیں فروخت کر رہے ہیں ،یہ خسراجات مشترکہ ہیں اور ان کی کوئی باقاعدہ تقسیم نہ ہوئی ہے ، اسلام آباد ماڈل ٹائون کے مالکان نے اس تمام زمین پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے اور سائلان کو مختلف مقدمات میں پولیس کے ساتھ ملی بھگت سے پھنسا رکا ہے تا کہ سائلان کی ملکیتی و قابضہ زمین چھین لیں اور اس پر سوسائٹی بنا کر لوگوں کو سیل کرنا چاہتے ہیں اور مورخہ 28-01-2021کو سائلان کی ملکیتی و شاملاتی زمین جو کہ خسرہ نمبر 274تا 278پر بھی ملک طاہر اور مرزا نوید وغیرہ نے قبضپ کرنے کی کوشش کی جو ناکام ہوئی اور ایک شخص چوہدری گل باز فائرنگ کی وجہ سے فوت ہوئے جسکی ایف آئی آر تھانہ بنی گالہ میں رجسٹرڈ ہوئی ، خسرہ نمبر 275،276اور 277سالم رقبہ ہماری ملکیت ہے ، ان خسرہ جات میں ماڈل ٹائون کے مالکان ملک طاہر اور مرزا نوید وغیرہ نہ تو مالک ہیں اور نہ ہی قابض ۔ اسلام آباد ماڈل ٹاون والے لوگوں سے فراڈ کر رہے ہیں ، یہ ایک رجسٹرڈ سوسائٹی ہے اور فائلیں فروخت کرتے جا رہے ہیں ، جبکہ انکے پاس ایل او پی جعلی دستاویزات پر حاصل کیا ہوا تھا جو کہ کینسل ہو چکا ہے ، یہ سب کچھ ضلعی انتظامیہ کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے ، اسلام آباد ماڈل ٹاون کے پاس صرف 14کنال اور2مرلے ملکیتی زمین ہے ، لیکن یہ ہمارے جیسے سادہ لوگوں کو کیسوں میں پھنسا کر انکی زمینوں ہتھیانا چاہتے ہیں ، لہذا اسلام آباد ماڈل ٹائون کو سیل کیا جائے اور مزید خون خرابے سے علاقے کے لوگوں کو محفوظ کیا جائے ۔

