اسلام آباد(آئی پی ایس ) حکمران اتحاد مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان وزراتوں کی تقسیم کے حوالے سے مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی بطور وزیرخارجہ واپسی کا امکان ہے۔
مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی کے درمیان جاری مذاکرات سے آگاہ شخصیات کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان پاور شیئرنگ کا معاہدہ حتمی شکل اختیار کرنے کے قریب ہے، جس کے نتیجے میں بلاول بھٹو زرداری ایک مرتبہ پھر وزیرخارجہ بننے کا امکان ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بلاول بھٹوزرداری شہباز شریف کی کابینہ کا حصہ بن جائیں گے، دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان حالیہ مذاکرات کے دوران اتفاق رائے پیدا ہوگئی تھی۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری ایک مرتبہ پھر وزیرخارجہ بننے پر متفق ہوگئے ہیں جبکہ اس سے قبل وہ وزارت لینے سے گریزاں تھے، دونوں جماعتیں اب جزیات اور کابینہ میں پی پی پی کی شمولیت کی ٹائمنگ کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف چاہتے ہیں کہ جون کے پہلے ہفتے میں پیش ہونے والے بجٹ سے قبل ہی پی پی پی کابینہ میں شامل ہوجائے تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ پی پی پی بجٹ سے قبل کابینہ کا حصہ بنتی ہے یا نہیں تاہم یہ واضح ہے کہ پی پی پی جون میں کابینہ میں شامل ہوگی۔مسلم لیگ(ن)نے اس سے قبل وزیرخارجہ اسحاق ڈار کو نائب وزیراعظم کا عہدہ دے کر بلاول بھٹو کو وزارت خارجہ کا قلم دان سنبھالنے کے لیے ایک موقع پیدا کردیا ہے۔
باخبر ذرائع نے بتایا کہ اسحاق ڈار کا دفتر وزیراعظم کے دفتر میں قائم کیا جائے گا اور بلاول بھٹو زرداری کے لیے وزیر خارجہ کا منصب چھوڑنے کے بعد وہ وزیراعظم کے دفتر میں بیٹھ کر کام کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار وزارت خارجہ کے منصب سے خوش نہیں تھے کیونکہ وہ ہمیشہ وزیرخزانہ رہے ہیں لیکن شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن)کے دیگر رہنما ایسا نہیں چاہتے تھے۔
ن لیگ اور پی پی پی کے درمیان پاور شیئرنگ، بلاول کی بطور وزیرخارجہ واپسی کا امکان
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
