ہومبریکنگ نیوزپاکستان یوایس ایلومینائی نیٹ ورک کی" سوشل انٹر پرینیور شپ کی ترویج "پر دوروزہ کانفرنس اختتام پذیر

پاکستان یوایس ایلومینائی نیٹ ورک کی” سوشل انٹر پرینیور شپ کی ترویج “پر دوروزہ کانفرنس اختتام پذیر

اسلام آباد(سب نیوز )پاکستان میں امریکہ کے ڈپٹی چیف آف مشن اینڈریو شوفر نے کہاہے کہ پاکستان یوایس ایلومینائی نیٹ ورک کے ارکان 44 ہزار سے زیادہ طلبا ایکسچینج کے پروگرام کے ساتھ ملک بھر میں موسمیاتی طور پر موافق سمارٹ کاروبارچلا رہے ہیں، کمیونٹی کی مدد سے چلنے والے کاروباری اداروں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، پسماندہ طبقات کی کاروباری عمل میں شمولیت کو یقینی بنارہے ہیں اور انٹر پرینیور شپ کے پیچیدہ مسئلے کے حل میں معاونت کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ” پاکستان میں سوشل انٹرپرینیور شپ کی ترویج” کے عنوان سے ہونے والی دوروزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو گزشتہ شام اسلام آبا دمیں اختتام پذیر ہوئی ۔ اکا ئو نٹیبلٹی لیب نے کانفرنس کا اہتمام پاکستان میں امریکی مشن کے تعاون سے کیا ۔

کانفرنس کے شرکا جو پاکستان یوایس ایلومینائی نیٹ ورک کے ارکان پر مشتمل تھے ، سے خطاب کرتے ہوئے سابق سینیٹر اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین، مشاہد حسین سید نے کہا کہ “سوشل انٹرپرینیورشپ صرف ایک لفظ نہیں ہے۔ یہ آنے والے کل کی تبدیلی کے لیے ایک محرک ہے اور جامع ترقی اور معاشرے کے تمام افراد کو بااختیار بنانے کا راستہ ہے”کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اکانٹیبلٹی لیب پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فیاض یسین نے کہا کہ کانفرنس کا اہم مقصد کاروبار اور شہری مصروفیات کے درمیان تعلق، پاکستان پر اس کے وسیع اثرات اور اس سے متعلقہ مسائل کو حل کرنے کے طریقوں کے لحاظ سے سوشل انٹرپرینیورشپ کے مختلف پہلوں کو اجاگر کرنا ہے۔

کانفرنس میں ملک کے مختلف علاقوں سے پاکستان یوایس ایلومینائی نیٹ ورک کے 120 سے زائدسابق طلبا، نجی اور سرکاری شعبوں کے ماہرین بشمول سول سوسائٹی کے اداروں، ماہرین ِتعلیم، اراکین پارلیمنٹ اور میڈیا سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس نے سماجی طور پر باشعور اور معاشی طور پر پائیدار پاکستان کے بارے میں بات چیت اور مختلف طبقات کے مابین باہمی تعاون کو فروغ دیا۔
پاکستان یوایس ایلومینائی نیٹ ورک کے پاکستان میں سربراہ صاحبزادہ عامر خلیل نے کہا کہ یہ کانفرنس صرف باہمی مکالمے کی حد تک محدود نہیں بلکہ اس میں عمل پر بات کی گئی ہے ۔ ہم یہاں پاکستان میں سماجی انٹرپرینیورشپ کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور کرنے پر توجہ مرکوز کررہے ہیں تاکہ سماجی اور کاروباری افراد کے لیے ایک قابل عمل کاروباری ماحولیاتی نظام تشکیل دیا جا سکے۔

کانفرنس میں شرکا کو مختلف قسم کی سرگرمیوں اور مصروفیات کے ذریعے سوشل انٹرپرینیور شپ کے بارے میں آگاہ کیا گیا ۔ ان سرگرمیوں میں ماہرین کے ساتھ پینل مباحثے ، مہمان مقررین کے لیکچرز، سوشل انٹرپرینیورشپ سے متعلق عملی آگہی کے لیے اہم سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے دورے شامل تھے۔ ان دوروں کے دوران پاکستان یوایس ایلومینائی نیٹ ورک اور ان اداروں کے مابین باہمی تعاون کے فروغ کے مواقع پر غور کیا گیا۔

کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اکا ئو نٹیبلٹی لیب پاکستان علی عمران نے کہا کہ “ہماری گفتگو سوشل انٹرپرینیورشپ کے گر د ہی مرکوز رہی ہے ۔ کانفرنس کے دوران ہم نے سوشل انٹرپرینیور شپ کے مستقبل کے امکانات کا تصور کرنے سے لے کر تکنیکی اختراعات اور مضبوط پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور جامع نیٹ ورکس کے ذریعے حاصل کیے جانے والے ٹھوس نتائج سیرحاصل گفتگوکی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔